’ اڈوانی پر مقدمہ چلایا جائے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اترپردیش کی ہائی کورٹ نے بابری مسجد کے انہدام کے دوران اشتعال انگیز تقریر کرنے کے ایک معاملے میں بی جے پی کے صدر لعل کرشن اڈوانی پر مقدمہ چلانے کی ہدایات جاری کی ہیں۔ اس سے قبل ایک خصوصی عدالت نے اس معاملے میں مسٹر اڈوانی کو بری کر دیا تھا۔ آلہ باد ہائی کورٹ میں ہاشم انصاری اور محبوب علی نامی دو افراد نے مسٹر اڈوانی کے بری کیے جانے کےخلاف درخواست داخل کی تھی۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ چونکہ مقدمہ چلانے کے لیے کافی ثبوت ہیں اس لیے کسی ایک فرد کو اس سے بری نہیں کیا جاسکتا۔ جسٹس وائی آر ترپاٹھی نے اپنے فیصلے میں اس مجسٹریٹ پر بھی نکتہ چینی کی ہے جس نے مسٹر اڈوانی کو بری کیا تھا۔ اڈوانی کو بری کیے جانے کے خلاف کئی سیاسی رہنماؤں نے بھی اعتراض کیا تھا۔ عدالت نےسابق مرکزی وزیرمرلی منوہر جوشی اور چند دیگرافراد کی اس درخواست کو بھی مسترد کردیا ہے جس میں مسٹر اڈوانی کے کیس کا حوالہ دیکر کہا گيا تھا کہ جس طرح مسٹر اڈوانی کو بری کیا گيا تھا انہیں بھی بری کیا جانا چاہیے۔ رائے بریلی کی ایک خصوصی عدالت میں بابری مسجد مسماری کے معاملے میں مرلی منوہر جوشی کے ساتھ اوما بھارتی، ونیۓ کٹیار، اشوک سنگھل، وشنو ہری ڈالمیا، اچاریہ گری راج کشور اور سادھوی شریتا مبھرا پر پہلے سے مقدمہ چل رہا ہے۔ ہائی کورٹ نے اس معاملے میں اڈوانی پر بھی مقدمہ چلانے کو کہا ہے۔ ان تمام لوگوں پر چھ دسمبر انیس سو بانوے کو ایودھیا میں بابری مسجد کی انہدامی کارروائی کے دوران اشتعال انگیز تقریریں کرنے کا الزام ہے۔ ان پر الزام ہے کہ ان رہنماؤں نے ہی کار سیوکوں کو بابری مسجد گرانے پر اکسایا تھا۔ مسجد کی مسماری کے بعد ملک بھر میں فرقہ وارانہ فسادات بھڑک اٹھے تھے۔ ان فسادات میں دوہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||