اختلافات: آر ایس ایس کی تشویش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت میں ہندو نظریاتی تنظیم آر ایس ایس یعنی راشٹریہ سویم سنگھ نے اپنی ہم خیال جماعتوں کے درمیان اختلافات پر شدید تشویش ظاہر کی ہے۔ تنظیم نے پاکستان کے بانی محمد علی جناح کے متعلق لال کرشن اڈوانی کے بیان سمیت دیگرنظریاتی تنازعات اور ’بھٹکاؤ‘ پر تشویش ظاہر کی ہے۔ آر ایس ایس کے ترجمان رام مادھونے بی بی سی سے بات چیت میں کہاکہ ’سورت کی میٹنگ میں مختلف ریاستوں کے ارکان نے نظریات وفکر سے بھٹکنے، نازیبا سلوک اور بیانات کے لیے بعض لوگوں کے رویوں پر تشویش ظاہر کی ہے۔ اس کے بارے میں ہمارے سینئر لیڈر متعلقہ افراد سے بات کرینگے‘۔ مسٹر مادھو سے جب یہ پوچھا گیا کہ کیا جناح کے متعلق اڈوانی کے بیان پر بھی بات چیت ہوئی ہے تو انہوں نے کہا اس امر بھی غور و فکر کیا گيا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس ان تمام امور کے بارے میں انفردی طور پر لوگوں سے بات چیت کریگی۔ ’اب یہ ان پر ہے کہ وہ اس سلسلے میں کیا اقدامات کرتے ہیں‘۔ میڈیا میں اس طرح کی خبریں شائع ہوئی تھیں کہ آر ایس ایس نے سورت کے اجلاس میں لال کرشن اڈوانی کو بی جے پی کے صدر کی حیثیت سے ہٹانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ انہیں خبروں کے پیش نظر آر ایس ایس نے یہ تازہ بیان جاری کیا ہے۔ تنظیم کے ترجمان رام مادھو سے جب بی جے پی سے نارضگی کی وجوہات پوچھی گئيں تو انکا کہنا تھا کہ یہ کسی خاص جماعت کا معاملہ نہیں ہے بلکہ لوگوں کی انفرادی بات ہے اور انہیں امید ہے کہ بات چيت سے معاملہ حل کرلیا جائیگا۔ ادھر اسی ماہ اکیس سے تئیس تاریخ کے درمیان بی جے پی کی نیشنل ایگزیکٹیو کا ایک اجلاس جنوبی شہر چنئی میں ہونے والا ہے۔ امکان ہے کہ اس اجلاس میں ان تمام امور پر غور وفکر کیا جائیگا۔ مبصرین کا کہنا ہے آر ایس ایس نے بی جے پی پر دباؤ ڈالنے کے لیے اس طرح کے بیانات جاری کیے ہیں۔ اس سلسلے بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے ابھی کوئی رد عمل سامنے نہیں آيا ہے۔ گزشتہ ماہ بی جے پی کے صدر لال کرشن اڈوانی نے اپنے پاکستان دورے کے دوران ایک بیان میں پاکستان کے بانی محمد علی جناح کو سیکولر قرار دیا تھا جس پر بی جے پی کے بعض رہنما اور اسکی حلیف تنظموں نے اس پر سخت اعتراض کیا تھا۔ آر ایس ایس یہ کہتی رہی ہے کہ ووٹ کیلے بی جے پی اپنے بنیادی نظریات سے دور ہوتی جارہی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||