اڈوانی کے لیے نئی قرارداد | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایل کے اڈوانی کو اپنا استعفی واپس لینے پر آمادہ کرنے کے لئے بھارتیہ جنتا پارٹی اور سنگھ پریوار میں سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں۔ بی جے پی کا پارلیمانی بورڈ ایک نئی قرارداد وضع کر رہا ہے جس میں پاکستان کے دورے کے حوالے سے مسٹر اڈوانی کی کوششوں کی ستائش کی جائے گی۔ پارٹی کے سینئر رہنماؤں نے اس قرارداد کا خاکہ مسٹر اڈوانی کو دکھایا ہے۔ کل کی قرارداد میں مسٹر اڈوانی سے استعفی واپس لینے کی اپیل کي گئی تھی ساتھ ہی ساتھ وشو ہندو پریشد کے رہنماؤں کے ان بیانات کی بھی سخت مذمت کی گئی تھی جن میں قائد اعظم کے حوالے سے مسٹر اڈوانی کو غدّار کہا تھا ۔تاہم پارٹی نے اس قرارداد ميں مسٹر اڈوانی کے خیالات کی توسیق نہيں کی تھی۔ سنگھ پریوار اور بی جے پی کے اعلیٰ رہنما اب کوئی دوسرا راستہ نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں تا کہ مسٹر اڈوانی کو واپس لایا جا سکے۔ موجودہ صورتحال انتہائی پیچیدہ ہے اور آر ایس ایس اور اڈوانی دونوں کے لئے اپنی اپنی پوزیشن سے پیچھے ہٹنا بہت مشکل نظر آتا ہے ۔ بی جے پی کے رہنما بھی بانی پاکستان کے بارے میں مسٹر اڈوانی کے خیالات کے سلسلے میں منقسم ہیں۔ مسٹر اڈوانی کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ اپنا ذہن بنا چکے ہیں او وہ اپنا استعفی واپس نہیں لیں گے۔ بی جے پی کے رہنماؤں کا جمعرات ایک اہم اجلاس ہونے والا تھا جو دن میں دو بار ملتوی ہو چکا ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہ اجلاس اب کل ہوگا۔صورت حال پوری طرح مبہم ہے لیکن اس معاملے سے قائد اعظم محمد علی جناح کی شخصیت کے بارے ميں بحث چھڑ گئی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||