BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 08 June, 2005, 10:41 GMT 15:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’اڈوانی صاحب! نظرِ ثانی کریں‘

اڈوانی
مسٹر اڈوانی نے بدھ کو وزیر اعظم من موہن سے ملاقات میں انہیں اپنے دورہ پاکستان کی تفصیلات سے واقف کرایا
بی جے پی کے پارلیمانی بورڈ نے پارٹی کے صدر ایل کے اڈوانی سے کہا ہے کہ وہ استعفیٰ دینے کے فیصلے پر نظرِ ثانی کریں۔

بی جے پی کے کچھ رہنما اڈوانی کے گھر جا رہے ہیں تاکہ انہیں استعفیٰ واپس لینے پر مجبور کریں۔ پارٹی اٹل بہاری واجپئی اور مرلی منوہر جوشی سمیت اپنی سینیئر قیادت کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔

اس سے قبل حزب اختلاف کے رہنما لال کرشن اڈوانی نے کہا تھا کہ وہ اپنا استعفی واپس نہیں لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ’ان حالات اور وجوہات میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے جن سے مجبور ہوکر میں نے استعفی دیا تھا‘۔

مسٹر اڈوانی نے آج وزیر اعظم منموہن سنگھ سے ملاقات کی اور انہیں اپنے دورہ پاکستان کی تفصیلات سے واقف کرایا۔

ملاقات کے بعد نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے مسٹر اڈوانی نے کہا کہ ان کے اس دورے کا مقصد ہند پاک تعلقات کو بہتر بنانے کے عمل کو فروغ دینا تھا اور اس نقطۂ نظر سے ان کا یہ دورہ بہت کامیاب رہا ہے۔ ’ماحول میں مثبت تبدیلی آئی ہے ۔ فضا بہت سازگار ہے۔ مسائل موجود ہیں لیکن ماحول میں تبدیلی بہت واضح ہے۔‘

News image
اڈوانی کا کراچی میں جناح کو خراج عقیدت
اس دوران نائب صدر وینکیا نائڈو اور خود مسٹر اڈوانی کی رہائش گاہ پر بی جے پی کے اعلیٰ رہنماؤں کی ملاقاتیں جاری ہیں۔ یہ رہنما مسٹر اڈوانی کو اس بات کے لئے آمادہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ پارٹی صدر کے عہدے سے اپنا استعفی واپس لے لیں ۔

اس دوران ان کے ممکنہ جانشین کے بارے میں قیاس آرائياں کی جانے لگی ہیں ۔ ساتھ ہی پارٹی کے حلقوں میں زبردست سرگرمیاں دیکھی جارہی ہیں۔

جن رہنماؤں کے نام لیے جارہے ہیں ان میں مرلی منوہر جوشی، سشما سوراج ، ارون جیٹلی، راج ناتھ سنگھ ، پرمود مہاجن اور نریندر مودی شامل ہیں۔

ایک بات یقینی ہے کہ جو بھی پارٹی کا نیا صدر مقرر ہوگا وہ ہندو نظریاتی تنظيم آر ایس ایس کی منظوری کے ساتھ ہی ہوگا۔

آج شام پارٹی کے مرکزی عہدیداروں اور پارلیمانی بورڈ کے ارکان کا اجلاس طلب کیا گیا ہے۔ اس میٹنگ میں مسٹر اڈوانی اپنا موقف پیش کریں گے۔ ایک بار پھر ان سے استعفی واپس لینے کی اپیل کی جائے گی اور ان کے نہ ماننے کی صورت میں نئے صدر کی تلاش شروع ہو جائے گی۔

بے بس اڈوانی
دورہِ پاکستان اڈوانی کے استعفیٰ کی وجہ کیوں بنا؟
66اڈوانی: دورۂ پاکستان
’یہ میری زندگی کا ناقابلِ فراموش ہفتہ تھا‘
جناح بھارت کی نظرمیں
انڈیا میں جناح کو کس نظر سے دیکھا جاتا ہے؟
66سندھو کے درشن
اڈوانی خاندان ماضی کی گلیوں میں خوش
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد