اڈوانی کےاستعفی پر پارٹی اجلاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت میں حزبِ اختلاف بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئیر اہلکاروں کا ایک اہم اجلاس ہو رہا ہے جس میں پارٹی کے رہنماایل کے اڈوانی کے استعفے پر غور کیا جائے گا۔ مسٹر اڈوانی نے پاکستان کے اپنے دورے سے واپس آکر استعفی دے دیا تھا جہاں انہوں نے پاکستان کے بانی محمد علی جناح کو ایک سیکولر رہنما کہتے ہوئے ان کی ستائش کی تھی۔ ان کے اس بیان پر بھارت میں ہندو جماعتوں نے سخت احتجاج کیا تھا۔ ایل کے اڈوانی نے ایک بار پھر اپنا استعفی واپس لینے سے انکار کر دیا تاہم انہوں نے اٹل بہاری واجپئی سمیت ان رہنماوں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے انہیں استعفی واپس لینے کے لئے منانے کی کوشش کی ہے۔ مسٹر اڈوانی وزیر اعظم منموہن سنگھ سے ملاقات کے بعد نامہ نگاروں سے بات کر رہے تھے۔ دوسری طرف آج شام پارٹی اہلکاروں اور پارلیمانی پارٹی کا ایک اجلاس ہو رہا ہے۔ جس میں مسٹر اڈوانی کے استعفے پر غور کیا جائے گا۔ مسٹر اڈوانی پاکستان کے اپنے دورے کی تفصیل بتانے کے لئے وزیر اعظم سے ملنے گئے تھے۔ اس ملاقات کے بعد نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ اپنا استعفی واپس نہیں لے رہے۔ پاکستان کے اپنے دورے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ انہوں وزیر اعظم کو اپنے موقف سے آگاہ کر دیا ہے اور پاکستان کے ساتھ دو طرفہ مزاکرات کو بہتر بنانے کےلئے کچھ تجاویز بھی دی ہیں۔ انہوں نے پاکستان کے اپنے دورے کو کامیاب قرار دیا۔ وزیر اعظم کے میڈیا صلاح کار سنجے بروا نے بتایا کہ مسٹر اڈوانی نے وزیر اعظم کو پرویز مشرف اور شوکت عزیز کے ساتھ اپنی ملاقات کی تفصیل بتائی ہے۔ دریں اثنا دلی میں مسٹر اڈوانی کے جانشین کے نام پر بھی قیاص ارائیاں شروع ہو گئی ہیں۔ حالانکہ فی الحال وینکیا نائیڈو کو اڈوانی کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے لئے کہا گیا ہے۔لیکن پارٹی کے ترجمان نے یہ واضح کر دیا ہے کہ انہیں قائم مقام صدر نہیں بنایا گیا۔ لیکن اڈوانی کے جانشین کے طور پر اتر پردیش کے سابق وزیر اعلی راج ناتھ سنگھ اور سشما سوراج کا نام بھی لیا جا رہا ہے۔ ان کے علاوہ مرلی منوہر جوشی اور بال آپٹے کے نام بھی اہم ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||