اڈوانی بی جے پی کے نۓ صدر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مہاراشٹر کے اسمبلی انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی شکشست کے بعد پارٹی کے صدر وینکیا نائڈو نے اپنے عہدے سے استعفی دے دیا ہے۔ ان کی جگہ پر سینیئر رہنما لال کرشن اڈوانی پارٹی کے نۓ صدر بنائے گئے ہیں۔ وینکیا نے اپنے استعفیٰ کی بنیادی وجہ اپنی اہلیہ کی علامت بتائی لیکن تجزیہ کاروں کہ کہنا ہے گزشتہ مئی کے لوک سبھا انتخابات اور حال میں مہاراشٹر میں بی جے پی کی شکست کے بعد ان پر مستعفی ہونے کے لئے زبردست دباؤ تھا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی قومی مجلس عاملہ کی ایک ہنگامی میٹنگ میں نائڈو کے استعفیٰ کو قبول کر لیا گیا اور لال کرشن اڈوانی کو پارٹی کا نیا صدر مقر ر کیا گیا ہے۔ وینکیا نائڈو نے پارٹی کے دفتر پر ایک نیوز کانفرینس میں بتایا کہ 29 اکتوبر کو پارٹی کی قومی مجلس عاملہ کا ایک اجلاس طلب کیا گیا ہے جس میں اڈوانی کو پارٹی کے نۓ صدر کے طور پر باضابطہ منظوری دی جائے گی۔ وینکیا نائڈو نے جذباتی آواز میں اعلان کیا کہ وہ زندگی میں کبھی کوئی انتخاب نہیں لڑیں گے۔ نیوز کانفرینس میں نائڈو کے ہمراہ سابق وزیراعظم اٹل بہاری باجپئی اور نۓ صدر لال کرشن اڈوانی اور سابق وزیر خارجہ جسونت سنگھ بھی موجود تھے۔ نائڈو نے کہا کہ اٹل بہاری واجپئی کی حکومت نے ملک میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا لیکن اس کے باوجود عوام نے انہیں دوبارہ موقع نہیں دیا۔ اسی طرح مہاراشٹر میں کانگریس کی حکومت کے خلاف زبردست ناراضگی تھی لیکن وہاں بھی آخری لمحات میں نتائج پلٹ گئے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے انہیں شدید مایوسی ہوئی ہے ۔ وینکیا نائڈو کا کہنا تھا کہ ان حالات میں پارٹی کی قیادت ایک ایسے رہنما کے ہاتھ میں ہونی چاہۓ جو عوام کی نبض کو اچھی طرح سمجھ سکے۔ لوک سبھا انتخابات میں شکست کے بعد بی جے پی زبردست دباؤ سے گزر رہی تھی۔ انتخابی شکست نے بی جے پی کے لۓ نظر یاتی الجھن بھی پیدا کی ہے۔ پارٹی قیادت ابھی تک اپنی ہار کے اسباب کا تجزیہ تک نہیں کر سکی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نائڈو کا استعفیٰ اور اڈوانی کا صدر بنایا جانا دراصل اسی گھبراہٹ کا عکاس ہے۔ مستقبل میں بی جے پی کی نظر یاتی ساخت کیا ہوگی، اپوزیشن کے طور پر اس کا کردار کیسا ہوگا اور وہ مستقبل میں درپیش سیاسی چیلینجز کا کیسے سامنا کرے گی، اس کا کچھ اندازہ 29 اکتوبر کو اس وقت ہوگا جب سخت گیر سمجھے جانے والے لال کرشن اڈوانی باضابطہ طور پر پارٹی کی باگ ڈور ایک بار پھر اپنے ہاتھوں میں لیں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||