BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 10 June, 2005, 13:40 GMT 18:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اڈوانی نے استعفیٰ واپس لے لیا

ایل کے اڈوانی
اس سے قبل حزب اختلاف کے رہنما لعل کرشن اڈوانی نے کہا تھا کہ وہ اپنا استعفی واپس نہیں لیں گے
ہندوستان میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما ایل کے اڈوانی نے اپنا استعفی واپس لے لیا ہے۔ وہ پارٹی کے صدر کے طور پر برقرار رہیں گے لیکن وشو ہندو پریشد نے کہا ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناح کے بارے میں انکے خیالات کے لئے انہیں معاف نہیں کیا جا سکتاہے۔

دن بھر کی ڈرامائی سیاسی سرگرمیوں کے بعد مسٹر اڈوانی کو منانے کے لئے ایک نئی قرارداد تیار کی گئی جس میں مسٹر اڈوانی کے دورہِ پاکستان کی کامیابی کو تسلیم تو کیا گیا لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ وہ دو قومی نظرے کے تصور سے اتفاق نہیں کرتی اور یہ کہ قائد اعظم محمد علی جناح ملک کی تقسیم کے لئے ذمہ دار تھے۔


مسٹر اڈوانی کے استعفی کی واپسی کا اعلان کرتے ہوئے محترمہ سشما سوراج نے کہا کہ ’پارٹی یہ مانتی ہے کہ جناح دو قومی نظریے کے تصور کے حامی تھے اور ان کی وجہ سے ہی ملک تقسیم ہوا تھا۔ جناح کی وجہ سے ہی لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے اور بڑی تعداد میں لوگوں کا خون بہا۔‘

محترمہ سشما سوراج نے کہا کہ بانیِ پاکستان کےسلسلے میں پارٹی میں جو بحران پیدا ہو گیا تھا اسے قرارداد میں صاف کر دیا گیا ہے ۔ انکا کہنا تھا کہ اسکے بعد مسٹر اڈاونی نے کہا کہ انکے دورۂ پاکستان کے بارے میں پارٹی نے سب کچھ کہہ دیا ہے اور میرے بیان سے پارٹی کارکنوں کے درمیان جس طرح کی غلط فہمی پیدا ہو گئی تھی وہ اب ختم ہو گئی ہے اس لئے میں اپنا استعفی واپس لے رہا ہوں ۔‘

لیکن بی جے پی کی نظر یاتی تنظيموں کے رویے میں ان مصالحانہ کوششوں سے کوئی نرمی نہیں پیدا ہوئی ہے۔ وشو ہندو پریشد کے رہنما آچاریہ گریراج کشور نے کہا ہے کہ قرارداد کی منظوری اور استعفیٰ کی واپسی محض ایک ڈرامہ تھا۔

’پارٹی نے جناح کے بارے میں مسٹر اڈوانی کے خیالات کی توثیق نہیں کی ہے۔ اس کے باوجود وہ صدر بنے ر ہیں۔ میں تو اسے صرف ان کی سیاسی کمزوری قرار دوں گا۔‘

وشو ہندو پریشد نے آئندہ ہفتے مسٹر اڈوانی کے ان بیانات اور سنگھ پریوار کی نظریاتی اساس پر مفصل بحث کے لئے ایک اجلاس طلب کیا ہے اور یہ واضع کیا ہے کہ مسٹر اڈوانی جب تک اپنے بیانات سے منحرف نہیں ہوتے وہ انہیں معاف نہیں کر سکتی ۔

فی الحال بی جے پی کے اندر ایک زبردست بحران ختم ہو گيا ہے لیکن قائد اعظم کی سیاسی شخصیت اور نظریات کی یہ بحث اب بی جے پی اور سنگھ پریوار کے درمیان ہوگی۔ لیکن اس بحث میں سبقت فی الحال اڈوانی کو حاصل ہے۔

66بابری مسجد تا کٹاس
اڈوانی’ڈیمولیشن مین‘ سے تعمیرکی سمت
66سندھو کے درشن
اڈوانی خاندان ماضی کی گلیوں میں خوش
66اڈوانی: دورۂ پاکستان
’یہ میری زندگی کا ناقابلِ فراموش ہفتہ تھا‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد