BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 27 December, 2005, 13:38 GMT 18:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بی جے پی جنرل سیکرٹری مستعفی

بی جے پی
بھارتیہ جنتا پارٹی کے جنرل سیکرٹری (انتظامیہ ) سنجے جوشی نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ آر ایس ایس نے جوشی سے استعفے کا مطالبہ کیا تھا اور انہیں فوری طور پر ناگپور طلب کر لیا ہے۔

ممبئی میں جہاں پارٹی کے قیام کی سِلور جوبلی منائی جا رہی ہے پارٹی کا کوئی بھی لیڈر اس بات پر کھل کر بولنے کے لیے تیار نہیں ہے یہاں تک کہ جسونت سنگھ نے پریس کانفرنس کے دوران سنجے جوشی کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ وہ یہیں ممبئی میں ہیں اور ان کے خلاف کوئی بات نہیں ہوئی ہے۔ لیکن ساتھ ہی انہیں کہنا پڑا کہ یہ ان کی پارٹی کے خلاف کسی کی سازش ہو سکتی ہے ۔

پارٹی ذرائع کے مطابق سنجے جوشی کے خلاف بھی پہلے ایک آڈیو کیسٹ اور پھر اب ایک ویڈیو کیسیٹ ملا ہے، جس پر آر ایس ایس نے جوشی سے جواب طلب کیا ہے اور جوشی کو اسی لیے ناگپور طلب کیا گیا ہے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی اس وقت بڑے غیر یقینی حالات کا شکار ہے۔ ابھی تک پارٹی صدر کے نام پر فیصلہ نہیں ہو پایا ہے۔ آر ایس ایس اور پارٹی کے درمیانی اختلافات بڑھتے جا رہے ہیں اور اسی لیے انتشار بڑھ گیا ہے۔

ایل کے اڈوانی کو پاکستان سے واپسی کے بعد محمد علی جناح کو سکیولر کہنے پر سنگھ پری وار کے دباؤ میں استعفیٰ دینا پڑ رہا ہے تو دوسری جانب اب جوشی کے استعفے سے پارٹی کا امیج خراب ہوا ہے۔

صدر ایل کے اڈوانی کے بارے میں سابق مرکزی وزیر مرلی منوہر جوشی کا ایک بیان انگریزی اخبار میں شائع ہوا تھا کہ اڈوانی کو صدارت کے ساتھ ساتھ اپوزیشن لیڈر کے عہدے سے بھی مستعفی ہو جانا چاہئیے کیونکہ بدعنوان ممبران پارلیمنٹ کو برخاست کرنے کے معاملہ میں اڈوانی کا بیان اور ان کا موقف غلط تھا اور اسی وجہ سے پارٹی دو ٹکڑوں میں تقسیم ہو گئی تھی۔

لیکن آج مرلی منوہر جوشی نے اپنے اس بیان سے انحرف کیا اور کہا کہ ’میں نے ایسا کوئی بیان کبھی نہیں دیا ہے اور یہ میرے خلاف سازش ہے ۔‘

پارٹی میں نیا صدر کون ہو گا اس کے بارے میں بھی پارٹی میں اختلافات ہیں اور اسی لیے راج ناتھ سنگھ کے نام کا اعلان نہیں کیا گیا۔ پارٹی میں بدعنوان ممبران پارلیمنٹ ، نظم و نسق کے معاملات قومی مجلس عاملہ میں پوری طرح چھائے رہے۔

پارٹی کی قومی مجلس عاملہ میں پارٹی لیڈران نے ملک کی خارجہ پالیسی، وولکر معاملہ، سرحد پار دہشت گردی اور بھارت امریکہ تعلقات پر گفتگو ہوئی۔

اس کی توثیق کرتے ہوئے جسونت سنگھ نے کہا کہ مرکز میں موجودہ حکومت کے پاس خارجہ پالیسی کا کوئی واضح نظریہ نہیں ہے اور ان کی اسی پالیسی کی وجہ سے پڑوسی ممالک سے تعلقات بہتر ہونے کی بجائے خراب ہوئے ہیں۔

انہوں نے ایران کے بارے میں حکومت کی پالیسی کی مثال دی کہ کس طرح آخری لمحوں میں ایران کے بارے میں موقف تبدیل کیا گیا۔ جسونت سنگھ نے نٹور سنگھ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی اتنے بڑے عہدے کے وزیر کو عہدہ چھوڑنے کے لیے کہا گیا۔‘

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد