اڈوانی کا مستعفیٰ ہونے کا فیصلہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان میں حزبِ احتلاف کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر لعل کرشن اڈوانی نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے یہ اعلان چیننئی میں گزشتہ دو دونوں سے جاری پارٹی کی قومی مجلسہ عاملہ کے اجلاس کے آخری دن کیا ہے۔ اڈوانی نے کہاکہ وہ دسمبر کے مہینے میں پارٹی کی پچیسویں سالگرہ کے موقع پر ممبئی میں ہونے والے اجلاس کے دوران اپنا استعفی سونپ دیں گے۔ گزشتہ کئی مہینوں سے اڈوانی پر اپنے دو عہدوں میں سے ایک عہدے سے ہٹنے کا دباؤ بڑھتا جا رہا تھا۔ فی الوقت وہ پارلمنٹ میں ’لیڈر آف آپوزیشن‘ اور پارٹی کے صدر کے عہدے سنبھال رہے ہیں۔ ان پر یہ دباؤ سخت گیر ہندو تنظیم وی ایچ پی اور آر ایس ایس کے علاوہ خود بی جے پی کے رہنماؤں کی طرف سے بھی بڑھ رہا تھا۔ ان رہنماؤں کا مطالبہ تھا کہ اڈوانی کے پاس دونوں عہدے ہونا پارٹی کے اصول و ضوابط کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ پارٹی میں ایک نظریاتی بحران اس وقت شرع ہوا جب لعل کرشن اڈوانی نے اپنے پاکستان دورے پر بانئی پاکستان قائد اعظم ممحد اعلی جناح کو ’سکیولر‘ قرار دیا تھا۔ ان کے اس بیان کے سبب آر ایس ایس اور وی ايچ پی نے ان پر پارٹی کے نظریے کی مخالفت کا الزام عائد کیا۔ اسی بیان کے سبب خود بی جے پی کے کئی سینئر رہنما اڈوانی کی مخالفت میں سامنے آئے۔ ان رہنماؤں میں یشونت سنہا، مدن لعل کھورانہ جیسے سینئر رہنما شامل ہیں۔ گزشتہ ہفتے اپنی اسی مخالفت کے سبب مدن لعل کھورانہ کو پارٹی سے برطرف کر دیا گیا تھا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی میں نوجوان نسل کے رہنماؤں کو قیادت سونپنے کی ضرورت پر بھی زور دیا جارہا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||