BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 06 December, 2005, 09:38 GMT 14:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وولکر رپورٹ پر ہنگامہ جاری

بھارتی پارلیمان
اجلاس کو دوسری متربہ بھی شور شرابے کے سبب دن بھر کے لیے ملتوی کرنا پڑا۔
وولکر رپورٹ کے حوالے سے بھارتی پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں منگل کے روز بھی ہنگامہ آرائی جاری رہی۔ نٹور سنگھ کے ساتھ ہی حزب اختلاف کی جماعتیں کانگریس پارٹی کی صدر سونیا گاندھی کے استعفے کا بھی مطالبہ کر رہی ہیں۔ اس معاملے پرحکمراں محاذ اور اپوزیشن کے درمیان زبر دست تو تو میں میں ہوئی ہے۔

کارروائی شروع ہوتے ہی بھارتیہ جنتا پارٹی کے ارکان نے نعرے بازی شروع کردی کہ ’بدعنوانی برداشت نہیں کی جائیگی‘ اور ’ نٹور سونیا استعفی دیں ‘۔ ارکان کا مطالبہ تھا کہ نٹور سنگھ کو فوری طور پر استعفیٰ دینا چاہیے۔

کارروائی شروع ہوتے ہی بھارتیہ جنتا پارٹی کے ارکان نے نعرے بازی شروع کردی کہ ’بدعنوانی برداشت نہیں کی جائیگی‘ اور ’ نٹور سونیا استفعئی دیں ‘۔ ارکان کا مطالبہ تھا کہ نٹور سنگھ کو فوری طور پر استعفیٰ دینا چاہیے۔

اسکے جواب میں حکمراں پارٹیوں نے کہا کہ لال کرشن اڈوانی بابری مسجد کیس میں ملوث تھے اس لیے انہیں بھی گرفتار کیا جانا چاہیے۔

اپوزیشن جماعتیں پہلے ہی سے ہنگامہ آرائی پر آمادہ تھیں لیکن جب سونیا گاندھی کے استعفے کی بات آئی تو کانگریس اور اسکی اتحادی پارٹیوں نے بھی جوابی حملہ کیا۔ خاموشی اختیار کرنے کی اسپیکر کی تمام اپیلیں بے کار گئیں اور اس طرح دو بار دونوں ایوانوں کے اجلاس ملتوی کرنے پڑے۔ ایک بار پھر اجلاس شروع ہوا لیکن شور شرابے کے سبب اسے دن بھر کے لیے ملتوی کرنا پڑا۔

اس سے قبل سابق وزیر خارجہ نٹور سنگھ نے کہا تھا کہ وزیراعظم منموہن سنگھ کے روس دور کی واپسی پر وہ مستعفی ہوجائیں گے۔ لیکن حزب اختلاف کا کہنا تھا کہ جس طرح بہار میں صدر راج کے نفاذ کے لیے صدر جمہوریہ نےکابینہ کی سفارش ماسکو میں منظور کرلی تھی اسی طرح وزیراعظم نٹور سنگھ کا استعفی منظور کرسکتے ہیں اور اسکی اطلاع ایوان کو دی جاسکتی ہے۔

وؤلکر رپورٹ کے حوالے سے نٹور سنگھ تمام الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں۔ لیکن انکا نام آنے کے بعد ہی ان سے وزارت خارجہ کا قلمدان واپس لے لیا گیا تھا۔ مسٹر سنگھ کی مشکلوں میں اضافہ اس وقت ہوا جب کانگریس پارٹی کے ایک رکن اور کروشیا میں ہندوستان کے سابق سفیر انیل میتھرانی نے ایک پرائیوٹ ٹی وی چینل کے ساتھ انٹرویو میں انکشاف کیا تھا کہ عراق سے تیل حاصل کرنے کے لیے نٹور سنگھ نے اپنے بیٹے کی مدد کی تھی۔

عراق میں تیل برائے خوارک پروگرام میں بدعنوانی کی تفتیش کے لیے اقوام متحدہ نے وولکر کمیٹی بنائی تھی۔ اسکی رپورٹ میں نٹور سنگھ اور بھارت میں اس وقت برسرِ اقتدار اتحاد کی مرکزی پارٹی کانگریس پارٹی کا نام شامل ہے۔ اسکے علاوہ دلی کی تقریباً دو سو کمپنیوں کے نام بھی شامل ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد