نٹور سنگھ کی استعفیٰ کی پیشکش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے سابق وزیرِ خارجہ نے وولکر کمیشن کے رپورٹ کے تنازعے کے پیشِ نظر استعفیٰ دینے کی پیشکش کی ہے۔ کانگرس پارٹی کے ترجمان آنند شرما کے مطابق نٹور سنگھ نے کابینہ کے عہدے سے استعفیٰ کی پیشکش وزیر اعظم من موہن سنگھ کو کی ہے جو اس وقت روس کےدورے پر ہیں۔ نٹور سنگھ کو وولکر کمیشن کی رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد وزارت خارجہ عہدے سے ایک مہینے پہلے ہٹا دیا گیا تھا لیکن وہ بدستور کابینہ کے ممبر تھے۔ بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ نے روس کے دورے کے دوران کہا تھا کہ اگر نٹور سنگھ خود استعفیٰ دیں تو اس کو قبول کرنے پر غور کریں گے۔ کانگرس پارٹی کے ترجمان آنند شرما نے بتایا ہے کہ نٹور سنگھ نے وزیر اعظم کو روس میں ٹیلی فون پر بتایا کہ جب وہ دورے سے واپس آئیں گے تو وہ انہیں اپنا استعفیٰ پیش کر دیں گے۔ وزیر اعظم سے ٹیلی فون پر بات کرنے کے بعد نٹور سنگھ نے کانگرس کی صدر سونیا گاندھی سے بھی ملاقات کی۔ وولکر رپورٹ میں نٹور سنگھ پر عراق میں تیل برائے خوراک پروگرام میں فائدہ اٹھانے کا الزام لگایا گیا ہے۔ بھارتی حزب اختلاف کی جماعتوں نے مطالبہ کیا تھا کہ نٹور سنگھ کو فوری طور پرگرفتار کیا جائے جب کہ وزیراعظم منموہن سنگھ نے کہا ہے کہ اس معاملے میں قصورواروں کو بخشا نہیں جائے گا۔ | اسی بارے میں وزارت خارجہ منموہن کے پاس18 November, 2005 | انڈیا تیل منافع والوں کو سزا ملے گی:سونیا15 November, 2005 | انڈیا ’حقائق ناکافی ہیں‘:منموہن سنگھ 30 October, 2005 | انڈیا نٹور سنگھ وزارتِ خارجہ سے محروم 07 November, 2005 | انڈیا قصوری کی نٹور سنگھ سے بات چیت02 November, 2005 | انڈیا نٹور سنگھ پاکستان کے دورے پر02 October, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||