BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نٹور سنگھ کی استعفیٰ کی پیشکش
نٹور سنگھ
حزب اختلاف نے مطالبہ کیا ہے کہ نٹور سنگھ کو گرفتار کیا جانا چاہیے اور کانگریس کی سونیا گاندھی کو بھی استعفٰی دینا چاہیے
بھارت کے سابق وزیرِ خارجہ نے وولکر کمیشن کے رپورٹ کے تنازعے کے پیشِ نظر استعفیٰ دینے کی پیشکش کی ہے۔

کانگرس پارٹی کے ترجمان آنند شرما کے مطابق نٹور سنگھ نے کابینہ کے عہدے سے استعفیٰ کی پیشکش وزیر اعظم من موہن سنگھ کو کی ہے جو اس وقت روس کےدورے پر ہیں۔

نٹور سنگھ کو وولکر کمیشن کی رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد وزارت خارجہ عہدے سے ایک مہینے پہلے ہٹا دیا گیا تھا لیکن وہ بدستور کابینہ کے ممبر تھے۔

بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ نے روس کے دورے کے دوران کہا تھا کہ اگر نٹور سنگھ خود استعفیٰ دیں تو اس کو قبول کرنے پر غور کریں گے۔

کانگرس پارٹی کے ترجمان آنند شرما نے بتایا ہے کہ نٹور سنگھ نے وزیر اعظم کو روس میں ٹیلی فون پر بتایا کہ جب وہ دورے سے واپس آئیں گے تو وہ انہیں اپنا استعفیٰ پیش کر دیں گے۔

وزیر اعظم سے ٹیلی فون پر بات کرنے کے بعد نٹور سنگھ نے کانگرس کی صدر سونیا گاندھی سے بھی ملاقات کی۔

وولکر رپورٹ میں نٹور سنگھ پر عراق میں تیل برائے خوراک پروگرام میں فائدہ اٹھانے کا الزام لگایا گیا ہے۔

بھارتی حزب اختلاف کی جماعتوں نے مطالبہ کیا تھا کہ نٹور سنگھ کو فوری طور پرگرفتار کیا جائے جب کہ وزیراعظم منموہن سنگھ نے کہا ہے کہ اس معاملے میں قصورواروں کو بخشا نہیں جائے گا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد