BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نٹور سنگھ وزارتِ خارجہ سے محروم

بھارتی وزيرِ خارجہ نٹور سنگھ
وزیرِ خارجہ نے اپنے اوپر لگائے گئے تمام الزمات کو بے بنیاد قرار دیا ہے
نٹور سنگھ بدعنوانی کے الزامات کے بعد وزارتِ خارجہ سے محروم کردیے گئے ہیں تاہم وہ وزیر رہیں گے۔

بھارتی وزارتِ عظمیٰ کے دفتر کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ نٹور سنگھ وزیر اور کابینہ کے رکن رہیں گے اگرچہ ان کے پاس کوئی وزارت نہیں ہو گی۔

عراق میں تیل برائے خوارک پروگرام میں بدعنوانی کی تفتیش کے لیے اقوام متحدہ نے وؤلکر کمیٹی بنائی تھی جسکی رپورٹ میں وزیر خارجہ نٹور سنگھ اور بھارت میں اس وقت برسرِ اقتدار اتحاد کی مرکزی پارٹی کانگریس پارٹی کا نام شامل ہے۔

اس رپورٹ کی بنیاد پر ہی حزب اختلاف نٹور سنگھ کے استعفے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ لیکن نٹور سنگھ ان تمام الزامات سے انکار کرتے ہیں۔

اس سے پہلے کی خبروں میں بتایا گیا تھا کہ وؤلکر رپورٹ کی تفتیش کے لیے حکومت نے ایک عدالتی کمیشن مقرر کیا ہے۔ اس کمیشن کے سربراہ سابق چیف جسٹس آف انڈیا آر سی پاٹھک ہونگے۔

حکومت نے رپورٹ کی تفصیلات اور اسکے حوالوں کا پتہ لگانے کے لیے ایک ماہر سفارت کار کی سربراہی میں ایک کمیٹی کا بھی اعلان کیا ہے۔

دلی میں اس مسئلے پر گزشتہ کئی روز سے ہنگامہ جاری ہے۔ اپوزیشن کے زبردست دباؤ کے بعد حکومت نے بالاخر اس کی تفتیش کے لیے کمیشن کا اعلان کیا ہے۔ اس اعلان کے بعد ہی آر سی پاٹھک نے کہا ہے کہ ’میرا کام سچائی کا پتہ کرنا ہے۔ یہ تفتیش بالکل آزادانہ ہوگی لیکن اسکے لیے وقت کی کوئی خاص حد مقرر نہیں ہے۔ ہم اپنی رپورٹ حکومت کو سونپ دینگے۔‘

خبر ہے کہ یہ کمیشن ہمدان ایکسپورٹ کمپنی کی بھی پوچھ کچھ کرے گی۔ یہ کمپنی نٹور سنگھ کے بیٹے جگت سنگھ کے دوست کی ہے اور عراق سے اسکے تجارتی روابط رہے ہیں۔ وؤلکر کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق مالی لین دین اسی کے ذریعے ہوا تھا۔

حکومت نے وؤلکر رپورٹ کے حوالوں اور اسکی تفصیلات کا جائزہ لینے کے لیے ماہر سفارت کار وریندر دایال کی قیادت میں ایک آزادانہ کمیٹی تشکیل دی ہے۔ یہ کمیٹی وؤلکر رپورٹ کا مطالعہ کریگی اور یہ پتہ کرنے کی کوشش کریگی کہ کانگریس پارٹی اور نٹور سنگھ کا نام کن بنیادوں پر آیا ہے اور کیا وہ حوالے درست ہیں؟ رپورٹ کے لیے مسٹر دایال جلد ہی اقوام متحدہ کے افسران سے ملاقات کرینگے۔

عراق پر تجارتی پابندیوں کے دوران اقوام متحدہ نے ضروری اشیا اور دواؤں کی خرید کے لیے عراق کو ایک مقررہ مقدار میں تیل فروخت کرنے کی اجازت دی تھی۔ اس موقع پر عراق سے تیل کا ٹھیکہ حاصل کرنے میں بڑے پیمانے پر مالی بے ضابطگياں ہوئی تھیں۔

اقوام متحدہ نے وولکر کمیٹی سے اس معاملے کی تحقیقات کرائی تھیں۔ تحقیقات کے بعد کمیٹی کی رپورٹ میں نٹور سنگھ اور کانگریس پارٹی سمیت ہندوستان کی تقریباً سوا سو کمپنیوں کے نام سامنے آئے تھے جن پر غلط طریقے سے مالی لین دین کے الزمات عائد کیے گئے ہیں ۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد