BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 04 November, 2005, 05:07 GMT 10:07 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سنگھ الزامات، تفتیش ہو رہی ہے
بھارتی وزيرِ خارجہ نٹور سنگھ
وزیرِ خارجہ نے اپنے اوپر لگائے گئے تمام الزمات کو بے بنیاد قرار دیا ہے
بھارت نے کہا ہے ان الزامات کی تفتیش کرائی جارہی ہے کہ کانگریس پارٹی اور وزیر خارجہ نٹور سنگھ نے عراق کے تیل برائے خوراک کے پروگرام سےفائدہ اٹھایا تھا۔

وزیر اعظم کے دفتر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ حکومت کو ان الزامات پر گہری تشویش ہے جو اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں کسی مصدقہ حوالے کے بغیر لگائے گۓ ہیں۔ حزب اختلاف بی جے پی نے فوری استعفوں کا مطالبہ کیا ہے

وزیر اعظم من موہن سنگھ نےکہا کہ حکومت اس معاملے پر تشویش ہے اور معاملے کی تحہ تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہے۔

وولکر کمیٹی کی ایک رپورٹ میں عراق کے سلسلے میں بھارتی وزيرِ خارجہ نٹور سنگھ اور کانگریس پارٹی پر بدعنوانی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں ۔

اس معاملے میں حزبِ اختلاف نے نٹور سنگھ کی برطرفی کا مطالبہ کیا ہے اور جن لوگوں کے نام رپورٹ ميں آئے ہیں ان پر مقدمہ چلائے جانےکا بھی مطالبہ کیا ہے۔

بی جے پی نے وزیرِاعظم منموہن سنگھ کو ایک خط لکھا ہے جس میں فوری طور پر وزیرِخارجہ نٹور سنگھ کو برطرف کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ جن افراد کے نام رپورٹ میں آئے ہیں ان پر مقدمہ چلایا جائے‘۔

عراق پر لگائی گئی پابندیوں کے بعد اقوام متحدہ نے ضروری اشیا اور دواؤں کی خرید کے لیے عراق کو ایک مقررہ مقدار میں تیل فروخت کرنے کی اجازت دی تھی اور اس موقع پر عراق سے تیل کا ٹھیکہ حاصل کرنے میں بڑے پیمانے پر مالی بے ضابطگياں ہوئی تھیں۔

اقوام متحدہ نے وولکر کمیٹی سے اس معاملے کی تحقیقات کرائی تھیں۔ تحقیقات کے بعد کمیٹی کی رپورٹ میں نٹور سنگھ اور کانگریس پارٹی سمیت ہندوستان کی تقریباً سوا سو کمپنیوں کے نام سامنے آئے تھے جن پر غلط طریقے سے مالی لین دین کے الزمات عائد کیے گئے تھے ۔

وزیرِ خارجہ نے اپنے اوپر لگائے گئے تمام الزمات کو بے بنیاد قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اس معاملے میں پارلیمنٹ میں بحث کرنے کے لیے تیار ہیں۔ کانگریس نے بھی اس رپورٹ کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔ پارٹی کے سینئر رہنما ابھیشک سنگھوی کا کہنا ہے کہ’ رپورٹ میں مسٹر سنگھ اور گانگریس کا نام صرف ایک ذیلی فہرست کے علاوہ اور کہیں نہیں دیا گيا ہے‘۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ رپورٹ جاری کرنے سے قبل کمیٹی نے کانگریس پارٹی سے کسی طرح کی پوچھ گچھ بھی نہیں کی تھی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد