تیل منافع والوں کو سزا ملے گی:سونیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کی حکمران جماعت سونیا گاندھی نے کہا ہے کہ کانگریس پارٹی تیل برائے خوراک پروگرام میں منافع کمانے والوں کے خلاف سخت ایکشن لے گی۔ وولکر کمیٹی کی ایک رپورٹ میں عراق کے سلسلے اقوام متحدہ کے پروگرام تیل برائے خوراک میں بھارتی وزيرِ خارجہ نٹور سنگھ اور کانگریس پارٹی پر بدعنوانی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں ۔وولکر کمیٹی کی رپورٹ کے بعد وزیر خارجہ نٹور سنگھ کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔ نٹور سنگھ نے اپنے اوپر لگائے گئے تمام الزمات کو بے بنیاد قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اس معاملے میں پارلیمنٹ میں بحث کرنے کے لیے تیار ہیں۔ سونیا گاندھی نے تردید کی ہے کہ وہ نٹور سنگھ کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اطالوی نژاد سونیا گاندھی نے کہا کہ ان کی پارٹی کمیٹی کی رپورٹ کا انتظار کر رہی ہے اور اگر ان کی پارٹی کا کوئی فرد تیل برائے خوراک پروگرام میں مبینہ بدعنوانیوں میں ملوث پایا گیا تو پارٹی اس کے خلاف ضرور ایکشن لی گی۔ سونیا گاندھی نے کہا کہ اب وہ وقت گزر چکا ہے جب اس طرح کے معاملات پر زیادہ دھیان نہیں دیا جاتا تھا اور یہ ایسے الزامات ہیں جنہیں سن کر ان کو دکھ ہوا ہے ۔ عراق پر لگائي گئی پابندیوں کے بعد اقوام متحدہ نے ضروری اشیا اور دواؤں کی خرید کے لیے عراق کو ایک مقررہ مقدار میں تیل فروخت کرنے کی اجازت دی تھی اور اس موقع پر عراق سے تیل کا ٹھیکہ حاصل کرنے میں بڑے پیمانے پر مالی بے ضابطگياں ہوئی تھیں۔ اقوام متحدہ نے وولکر کمیٹی سے اس معاملے کی تحقیقات کرائی تھیں۔ تحقیقات کے بعد کمیٹی کی رپورٹ میں نٹور سنگھ اور کانگریس پارٹی سمیت ہندوستان کی تقریباً سوا سو کمپنیوں کے نام سامنے آئے تھے جن پر غلط طریقے سے مالی لین دین کے الزمات عائد کیے گئے تھے ۔ | اسی بارے میں نٹور سنگھ وزارتِ خارجہ سے محروم 07 November, 2005 | انڈیا کانگریس کے لیے پہلا بڑا بحران 08 November, 2005 | انڈیا سنگھ الزامات، تفتیش ہو رہی ہے04 November, 2005 | انڈیا کانگرس کا اقوامِ متحدہ کو نوٹس03 November, 2005 | انڈیا ’حقائق ناکافی ہیں‘:منموہن سنگھ 30 October, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||