اوما بھارتی کی پارٹی رکنیت معطل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتیہ جنتا پارٹی کی شعلہ بیان لیڈر اوما بھارتی کو پارٹی کی بنیادی رکنیت سے فوری طور پرمعطل کردیا گیا ہے۔ اوما بھارتی نے شیو راج چوہان کومدھیہ پردیش کا وزیر اعلٰی نامزد کرنے کے حوالے سے پارٹی کے سینئر رہنماؤں کے خلاف بیان بازی کی تھی جس کے سبب انکے خلاف تادیبی کاروائی کی گئی ہے۔ بدھ کے روز بی جے پی کی پارلیمانی بورڈ کی ایک اہم میٹینگ کے بعد انہیں ایک اظہارِ وجوہ نوٹس جاری کیا گیا ہے کہ آخر ان کو پارٹی کی بنیادی رکنیت سے کیوں خارج نہ کیا جائے؟ میٹنگ کے بعد پارٹی کے ترجمان ارن جیٹلی نے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ جواب کے لیے بھارتی کو صرف تین روز کی مہلت دی گئی ہے۔ مسٹر جیٹلی نے بتایا کہ ’پارلیمانی بورڈ کی میٹنگ میں اس بات پر غور کیا گیا ہے کہ گزشتہ دو تین روز سے اوما بھارتی کا رویہ اور انکے بیانات پارٹی مخالف سرگرمیاں ہیں اسی وجہ سے انکے خلاف یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔‘ اس میٹنگ کی صدارت پارٹی صدر لال کرشن اڈوانی نے کی اور اس میں سابق وزیر اعظم اٹل بہار واجپئی اور مرلی منوہر جوشی جیسے کئی سینئر رہنماؤں نے شرکت کی تھی۔ بی جے پی نے مدھیہ پردیش کے گزشتہ اسمبلی انتخابات میں وزارت اعلٰی کے عہدے کے لیے اوما بھارتی کا نام پیش کیا تھا اور کامیابی کے بعد انہیں وزارت اعلٰی کا عہدہ بھی سونپا گیا تھا۔ لیکن ایک پرانے مقدمے کے حوالے سے انہیں استعفٰی دینا پڑا تھا۔ تاہم اوما بھارتی دوبارہ کرسی حاصل کرنے کے لیے مستقل کوشش کرتی رہی ہیں۔ مدھیہ پردیش میں قیادت کی تبدیلی کے لیے پارٹی پر دباؤ تھا۔ گزشتہ ہفتے پارٹی کی اعلٰی کمان نے وزیر اعلٰی کے لیے اوما بھارتی کے بجائے شیوراج چوہان کے نام کا اعلان کیا تھا اور تبھی سے اوما بھارتی کیمپ کافی ناراض ہے۔ اس حوالے سے محترمہ بھارتی نے اڈوانی اور واجپئی سمیت کئی سینئر رہنماؤں پر نکتہ چينی کی تھی۔ اوما بھارتی نے کہا ہے کہ وہ کسی بھی تادیبی کاروائی کو قبول نہیں کرینگی اور وہ خود بھارتیہ جنتا پارٹی ہیں۔ گزشتہ برس بھی پارٹی کے سینئر رہنماؤں کے ساتھ انکے اختلافات ابھر کر سامنے آگئے تھے۔ بات اتنی بڑھ گئی تھی کہ پارٹی کی میٹنگ میں وہ اڈوانی پر بھی برس پڑیں تھیں جس کے سبب انہیں پارٹی سے معطل کر دیا گیا تھا لیکن پھر انہیں واپس لے لیا گیا تھا۔ بعض سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اب وہ ایک علحیدہ علاقائی جماعت بنانے کا اعلان کر سکتی ہیں۔ فی الوقت وہ ایودھیا کی یاترا پر ہیں اور آر ایس ایس یعنی راشٹریہ سویم سیوک سنگھ نے انکی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ اوما بھارتی کا شمار ان شعلہ بیان لیڈروں میں ہوتا ہے جو ہندو نظریات پر مبنی جوشیلی تقریروں سے لاکھوں کارسیکوں کومیدان میں اتارنے کی طاقت رکھتے ہیں۔ ایودھیا میں بابری مسجد کے مقام پر رام مندر کی تعمیر کے لیے جس تحریک کی بنیاد اڈوانی نے ڈالی تھی اس میں اوما بھارتی نے بھی اہم رول ادا کیا تھا۔ | اسی بارے میں اوما بھارتی کے بارے میں فیصلہ آج 30 November, 2005 | انڈیا واجپئی کی دھمکی، بھارتی کا احتجاج29 November, 2005 | انڈیا لعل کرشن اڈوانی کے خلاف مہم تیز 16 July, 2005 | انڈیا بی جے پی کے رہنما پر قاتلانہ حملہ 06 October, 2005 | انڈیا سنہا ترجمان کے عہدے سے برطرف 28 June, 2005 | انڈیا بی جے پی و شیو سینا پر جرمانہ 16 September, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||