BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 29 November, 2005, 12:57 GMT 17:57 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واجپئی کی دھمکی، بھارتی کا احتجاج

واجپئی
کسی سے رعایت نہیں برتی جائےگی خواہ وہ کتنے ہی بڑے عہدے پر کیوں نہ ہو‘
ہندوستان کے سابق وزير اعظم اور بھارتیہ جنتاپارٹی کے رہنما اٹل بہاری واجپئی نے کل مدھیہ پردیش میں بی جے پی کے اسمبلی ارکان کے ایک اجلاس میں ہونے والے ہنگامے کو ’بد نظمی کی انتہا‘ قرار دیا ہے۔ واجپئی نے یہ بھی کہا ہے کہ اس طرح کی حرکتوں کو قطعاً برداشت نہیں کیا جائے گا۔

واجپئی کا کہنا تھا کہ ’جو کچھ بھی ہوا ہے اس میں ملوث رہنماؤں کے خلاف تادیبی کارروائی کرنے کے لیے پارٹی کے اعلیٰ ارکان صلاح و مشورہ کر رہے ہیں‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ پارٹی کے اصولوں کی خلاف ورزی کرنے والے کسی بھی شخص سے رعایت نہیں برتی جائے گی خواہ وہ پارٹی میں کتنے ہی بڑے عہدے پر کیوں نہ ہو۔

کل مدھیہ پردیش کی دارالحکومت بھوپال میں بی جے پی کے ارکان اسمبلی کے ایک اجلاس کے دوران ریاست کی سابق وزیر اعلیٰ اوما بھارتی باہر چلی گئی تھیں۔

اوما بھارتی
اوما بھارتی

ارکان اسمبلی کا یہ اجلاس شِو راج سنگھ چوہان کو نیا وزیر اعلیٰ منتخب کرنے کے لیے طلب کیا گیا تھا۔ اس سے قبل مسٹر چوہان کو بی جے پی کے پارلیمانی بورڈ کے ممبران نے ریاست کا رہنما مقرر کیا تھا۔ شِو راج چوہان کو بابولال گوڑ کی جگہ وزیر اعلیٰ بناگیا ہے۔

اجلاس سے باہر آ کر اوما بھارتی نے اپنی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’ اسمبلی ارکان کی رائے جانے بغیر یوں وزیر اعلیٰ منتخب کرنا غیر آئینی ہے‘۔

اس کے بعد اوما بھارتی کے حامیوں نے پارٹی دفتر کے باہر توڑ پھوڑ کی اور رہنماؤں کے خلاف نعرے بھی لگائے۔ دلچسپ پہلو یہ ہے کہ توقع کے برعکس 150 سے زیادہ ارکان میں سے صرف 14 ارکان ہی اوما بھارتی کے حق میں سامنے آئے ۔

اوما بھارتی کی قیادت میں ہی بی جے پی نے مدھیہ پردیش میں دو تہائی کی اکثریت سے کامیابی حاصل کی تھی لیکن ان کو اس وقت وزیر اعلیٰ کے عہدے سے مستعفی ہونا پڑا تھا جب کرناٹک میں مسلمانوں کی ایک عبادت گاہ پر حملہ کرنے کے ایک معاملے میں وہاں کی مقامی عدالت نے ان کے خلاف وارنٹ جاری کر دیا۔

سابق وزیر علیٰ کی شکایت
 اسمبلی ارکان کی رائے جانے بغیر یوں وزیر اعلیٰ منتخب کرنا غیر آئینی ہے
اوما بھارتی
کرناٹک کی حکومت نے اوما بھارتی کے خلاف لگائے گئے تمام الزمات واپس لے لينے کا فیصلہ کیا تو انہوں نے دوبارہ وزیر اعلیٰ بننا چاہا لیکن پارٹی کی قیادت نے اس کی اجازت نہیں دی۔ بھارتی اس وقت سے باغیانہ رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔

وہ اس سے قبل ایک بار مسٹر اڈوانی کی صدارت میں اعلیٰ رہنماؤں کے اجلاس سے واک آؤٹ کر چکی ہیں اور آر ایس ایس کو بھی انہوں نے اپنی نکتہ چینیوں کا نشانہ بنایا ہے۔

واجپئی کے بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے بھارتی نے کہا کہ ’وہ ایک ایسے ہوائی جہاز کے پائلٹ نہ بنیں جو کبھی بھی اغوا ہو سکتا ہے‘۔

اسی بارے میں
اوما بھارتی کی واپسی
24 December, 2004 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد