بی جے پی رہنما اوما بھارتی معطل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان میں حزب اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی جنرل سیکریٹری اوما بھارتی کو معطل کر دیا گیا ہے۔ یہ اقدام پارٹی کے عہدیداورں کی ایک میٹنگ سے محترمہ اوما بھارتی کے واک آؤٹ کے بعد اٹھایا گیا۔ محترمہ بھارتی نے اجلاس کے دوران پارٹی کے صدر ایل کے اڈوانی کے خطاب کے دوران یہ الزام لگایا کہ بعض رہنما آف دی ریکارڈ بیانات کے ذریعے انہیں تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ محترمہ بھارتی نے مسٹر اڈوانی سے مطالبہ کیا کہ وہ ان رہنماوں کے خلاف کاروائی کریں لیکن جب مسٹر اڈوانی نے کہا کہ یہ معاملہ ختم ہوچکا ہے تو وہ میٹنگ سے اٹھ کر باہر چلی گئیں۔ سابق وزیر خارجہ جسونت سنگھ نے کچھ دیر بعد نامہ نگاروں کو بتایا کہ محترمہ بھارتی کو جنرل سیکریٹری کے عہدے سے الگ کر دیا گیا ہے اور انہیں پارٹی کی بنیادی رکنیت سے معطل کر دیا گیا ہے۔ محترمہ بھارتی نے معطلی کے بعد آر ایس ایس کے رہنماؤں سے ملاقات کی ہے۔انہیں آر ایس ایس اور وشوہندو پریشد سے قریب سمجھا جاتا ہے۔ محترمہ بھارتی کی معطلی ایک ایسے وقت عمل میں آئی ہے جب مسٹر اڈوانی نے پارٹی کے اندورونی خلفشار پر تشویش ظاہر کی تھی اور کہا تھا آپسی چپقلش برداشت نہیں کی جائیگی۔ پارلیمانی انتخابات اور بعد میں کئی ریاستوں کے اسمبلی انتخابات میں شکست کے بعد بی جے پی کے اندورونی اختلافات ابھرنے لگے تھے اور حال میں کئی رہنماؤں نے ایک دوسرے کے خلاف بیان دیئے تھے جن سے انکے اختلافات ابھر کر سامنے آنے لگے تھے۔ نیۓ صدر ایل کے اڈوانی کی قیادت میں بی جے پی کے عہدیداروں کی آج پہلی میٹنگ تھی اور اس میں پارٹی کو درپیش چیلینجیز پر تو غور کیا ہی گیا لیکن سب سے زیادہ توجہ پارٹی کے اندر پھیلی بے چینی پر مرکوز کی گئی۔انتہائی ڈسپلن کہی جانے والی بی جے پی کو اس طرح کی صورت حالی کا پہلی بار سامنا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||