اوما بھارتی جیل بھیج دی گئیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کی ریاست مدھیہ پردیش کی سابق وزیر اعلیٰ اوما بھارتی کو ایک عدالت نے ان کے از خود پیش ہونے کے بعد ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے۔ اوما بھارتی پر الزام ہے کہ انہوں نے 1998 میں ہبلی میں ایک عید گاہ پر ترنگا لہرایا تھا اور اس موقع پر ایک تقریر کی جسے اشتعال انگیز قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ اس کی وجہ سے فساد بھڑک اٹھا جس میں کئی افراد ہلاک ہو گئے۔ انہوں نے گزشتہ پیر کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا اور ان کی جگہ ان کی پارٹی بی جے پی کے ارکان نے بابو لال گور کو پارٹی لیڈر مٹنتخب کیا ہے جنہوں نے بعد میں وزیراعلیٰ کی حیثیت سے حلف اٹھایا۔ اوما بھارتی نے خود کو کرناٹک کی ایک عدالت میں پیش کیا۔ انھوں نے وزارتِ اعلیٰ چھوڑنے اور عدالت میں پیش ہونے کا فیصلہ نا قابلِ ضمانت گرفتاری کے جاری ہونے کے بعد کیا تھا۔ ان کی پارٹی بھارتیہ جنتا پارٹی، بی جے پی کے ارکان ناقابلِ ضمانت وارنٹوں کے جاری ہونے کو انتقامی کارروائی قرار دے رہے ہیں جب کہ کانگریس کے وفاقی حکومت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اوما بھارتی کے خلاف جاری ہونے والا یہ اٹھارہوں وارنٹ تھا۔ اوما کے خلاف دس سال قبل ہی ہبلی میں مقدمہ درج کر لیا گیا تھا اور یہ کارروائی اسی مقدمہ کی بنیاد پر ہوئی ہے۔ عدالت میں پیش ہونے کے لیے تینتالیس سالہ اوما بھارتی ٹرین کے ذریعے گئیں اور جب وہ ہبلی کی عدالت میں پیش ہوئیں تو ان کے سینکڑوں حامی عدالت کے باہر جمع تھے۔ مقامی انتظامیہ نے ممکنہ ہنگاموں کی روک تھام کے لیے علاقے میں کرفیو نافذ کر دیا تھا اور تعلیمی ادارے بھی بند کر دیے تھے۔ عدالت نے سابق وزیر اعلیٰ کو چودہ دن کے ریمانڈ پر جیل بھیجا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||