اوما بھارتی کی رہائی کا حکم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کرناٹک کی ایک عدالت نے ریاستی حکومت کی جانب سے اوما بھارتی کے خلاف لگائے جانیوالے الزامات واپس لینے کے بعد ان کی رہائی کا حکم جاری کردیا ہے۔ گزشتہ پچیس اگست کو عدالت نے اوما بھارتی کو چودہ روز کے لئے عدالتی حراست میں اس لئے بھیج دیا تھا کیونکہ ان پر دس برس قبل کرناٹک کے ہُبلی شہر میں ہندو مسلم فسادات بھڑکانے کا الزام تھا۔ ہُبلی کی عدالت نے آغاز میں اوما بھارتی پر لگائے جانے والے الزامات واپس لینے کی کرناٹک حکومت کی درخواست مسترد کردی تھی جس کی وجہ سے ان کے خلاف جاری ہونیوالا گرفتاری کا وارنٹ واپس نہیں لیا جاسکا۔ گرفتاری سے قبل اوما بھارتی ریاست مدھیہ پردیس کی وزیراعلیٰ تھیں لیکن گرفتاری کے غیرضمانتی وارنٹ کی وجہ سے انہیں استعفی دینا پڑا تھا۔ ان کے خلاف 1994 میں کرناٹک کے شہر ہُبلی میں عیدگاہ میں جبری طور پر قومی پرچم لہرانے اور فساد برپا کرنے کا الزام تھا۔ اس واقعہ میں پانچ افراد مارے گۓ تھے۔ اوما بھارتی کا تعلق بھارتیہ جنتا پارٹی سے ہے جبکہ مرکز اور ریاست کرناٹک میں کانگریس کی حکومتیں ہیں۔ یہ ایک سیاسی دلچسپی کی بات ہے کہ ان کے خلاف یہ پرانا مسئلہ کیوں کھڑا ہوا۔ مسئلے کی شروعات تب ہوئی جب ریاست جھارکھنڈ میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حامی حکومت کے اشارے پر مرکز میں کانگریس حکومت میں شامل مرکزی وزیر شیبو سورین کے خلاف ایک برسوں پرانے مقدمے میں غیرضمانتی وارنٹ جاری کیا گیا۔ اس وارنٹ کے مدنظر شیبو سورین کو مرکزی وزیر کے عہدے سے استعفی دینا پڑا اور وہ جیل بھی گئے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ کانگریسی رہنما بھی کسی ایسے پرانے مقدمے کی تلاش میں تھے جس میں بی جے پی کے کسی بڑے رہنما کو گرفتار کیا جاسکے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||