نتیش کمار بہار کے نئے وزیراعلیٰ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنتادل یونائیٹیڈ کے رہنما نتیش کمار نے بہار کے نۓ وزیراعلیٰ کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا ہے۔ پٹنہ کے تاریخی گاندھی میدان میں گورنر بوٹا سنگھ نے انہیں عہدہ رازداری کا حلف دلایاہے۔ ان کے ساتھ ہی بی جے پی کے سینیئر رہنما شوشیل کمار مودی کو نائب وزیر اعلیٰ کا عہدہ دیا گیا ہے۔ نتیش کمار بہار کے ایکتیسویں وزیر اعلیٰ ہیں۔ ان کے ساتھ بی جے پی اور جے ڈی یو کے چھبیس دیگر ارکان نے بھی نے وزارت کا حلف لیا ہے۔ چھبیس رکنی وزارت میں نائب وزیراعلیٰ سمیت اٹھارہ کابینہ درجے کے وزیر ہیں اور دیگر جونییر وزیر ہیں۔ اس میں چندر موہن رائے، ویدناتھ پرساد، مناظر حسین، نند کشور اور نریندر سنہا جیسے علاقائی لیڈروں کے نام شامل ہیں۔ حلف برداری تقریب میں این ڈی اے یعنی نیشنل ڈیموکریٹک اتحاد کے بہت سے سینیئر رہنما موجود تھے۔ سابق وزیراعظم اٹل بہار واجپئی، لعل کرشن اڈوانی وینکیا نائیڈو، اوما بھارتی اور جارج فرناڈیز جیسے لیڈروں نے حلف برداری کی تقریب میں شرکت کی۔ یہ دوسرا موقع ہے جب نتیش کمار بہار کے وزیراعلیٰ بنے ہیں۔ اس سے قبل سن دوہزار کے انتخابات کے بعد گورنر نے انہیں اس عہدے کا حلف دلا دیا تھا لیکن اکثریت نہ ملنے کے سبب انہوں نے استعفیٰ دیدیا تھا۔ دو سو تینتالیس رکنی اسمبلی میں بھارتیہ جنتا پارٹی اور جنتادل (یو) اتحاد نے ایک سو بیالیس سیٹیں جیتی ہیں۔ اس اتحاد کو واضح اکثریت حاصل ہے۔ گزشتہ روز نتیش کمار کو بہار اسمبلی میں حکمراں اتحاد کا اتفاق رائے سے لیڈر منتخب کیا گیا تھا۔ این ڈی اے رہنماؤ نے کل گورنر بوٹا سنگھ سے ملاقات کرکے حکومت بنانے کا دعویٰ پیش کیا تھا اور اس کے فورا بعد ہی وفاقی کابینہ نے بہار سے صدراتی راج کے خاتمے کا فیصلہ کیا تھا۔ |
اسی بارے میں حکومت کورٹ سے یا ووٹ سے28 September, 2005 | انڈیا ’ِبہار اسمبلی کی تحلیل غلط تھی‘07 October, 2005 | انڈیا بہار میں انتخابی سرگرمیاں شروع24 September, 2005 | انڈیا بہار اسمبلی تحلیل کرنے کا فیصلہ23 May, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||