بہار -- ایک دور کا خاتمہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بہار کے انتخابات میں جنتا دل یونائٹیڈ اور بی جے پی کی فیصلہ کن فتح کے ساتھ ریاست میں ایک دور کا خاتمہ ہو گیا۔ ریاست میں 1990 سے لالو پرساد یادو اور بعد میں ان کی اہلیہ رابڑی دیوی کی حکومت رہی ہے۔ گزشتہ فروری میں جو اسمبلی انتخابات ہوئے تھےاس میں کسی بھی اتحاد یا جماعت کو اکثریت نہیں مل سکی تھی اور اسی لئے دوبارہ انتخابات کرانے پڑے۔ لیکن کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ ریاست کے عوام آٹھ مہینے کے اندر لالو اور ان کی جماعت کے خلاف اتنا فیصلہ کن ووٹ دے سکتے ہیں۔ لالو یادو کا تعلق ایک پسماندہ ذات اور اور ایک غریب خاندان سے ہے۔ پندرہ برس قبل جب انھوں نے اقتدار سنبھالا تھا تو اس وقت ریاست کی پسماندہ ذاتیں اور اقلیتیں خود کو انتہائی غیر محفوظ محسوس کر رہی تھیں - لالو نے ریاست کے غریب اور پسماندہ عوام کو زبان دی۔ ان میں عدم تحفظ کا احساس کم و بیش جاتا رہا اور یہی لالو کے پندرہ برس کی سب سے بڑی وراثت ہے۔لیکن لالو کے ان پندرہ برس میں ریاست کی ترقی پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ ایک ایسے وقت میں جب ملک کی بیشتر ریاستیں ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن ہیں بہار مکمل غربت کی تصویر بنا ہوا ہے۔ ریاست میں انتظامیہ مفلوج ہے۔ کئی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بہار میں دن میں مافیہ کا راج ہوتا ہے اور رات میں نکسلیوں کا۔ بی جے پی جنتادل یونائٹیڈ کی فتح یقینا لالو کے خلاف ووٹ ہے ۔ ریاست کے ممکنہ نئے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کا کہنا تھا کہ عوام نے یہ ووٹ تبدیلی کے لیے دیا ہے۔ یہ ووٹ ترقی کے لیے ہیں۔ یہ شکست ریلوے کے وزیر لالو پرساد یادو کے لیے یقینا ایک بڑا دھچکا ہے اور ساتھ ہی ایک سبق بھی کہ کوئی بھی جماعت ہمیشہ اقتدار میں نہیں رہتی۔ یہ جیت بی جے پی اور اس کے اتحاد کے لیے ایک زبردست اخلاقی اور سیاسی فتح ہے۔ دو برسوں میں بی جے پی کو پہلی بار کوئی بڑی جیت ملی ہے۔ جب پارٹی اور اسکا اتحاد زبر دست مایوسی اور حوصلہ شکنی کے دور سے گزر رہا تھا۔ اس فتح سے اسے نیا حوصلہ ملے گا۔ دوسری جانب بہار کی ترقی نئی حکومت کے لیے ایک بڑے چیلنچ کی طرح ہوگی۔ مسٹر نتیش کمار پہلے ہی کہ چکے ہیں کہ انکے اتحاد کی حکومت کی پہلی ترجیح ریاست میں امن و قانون کی بالا دستی قائم کرنا ہوگی تاکہ ریاست سے لا قانونیت کا خاتمہ کیا جاسکے۔ |
اسی بارے میں بھارت: ریاست بِہار کے نئے ہیرو21 November, 2005 | انڈیا بہار میں ریاستی اسمبلی کے انتخاب18 October, 2005 | انڈیا ’ِبہار اسمبلی کی تحلیل غلط تھی‘07 October, 2005 | انڈیا چارہ کیس: لالو پرفرد جرم عائد 26 September, 2005 | انڈیا پاسوان لالو کے لیے ’لائف سیونگ‘28 February, 2005 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||