چارہ کیس: لالو پرفرد جرم عائد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چارہ گھپلے کے ایک مقدمہ میں ریلوے کے وزير لالو پرساد یادو اور سابق وزير اعلی جگنّاتھ مشرا سمیت ایک سو ستر دیگر افراد کے خلاف سی بی آئی کی دو خصوصی عدالتوں میں فرد جرم عائد کر دی گئی ہے۔ چارہ گھپلے کے معاملات میں یہ سب سے بڑا مقدمہ ہے۔ اس مقدمے میں ملزمین پر رانچی اور ڈوارنڈہ علاقے کے سرکاری خزانے سے غیر قانونی طور پر کروڑوں روپے نکالنے کا الزام ہے۔ یہ معاملہ انیس سو چھیانوے میں سامنے آیاتھا۔ تفتیشی ایجنسی سی بی آئی کے مطابق کئي برسوں کے دوران ریاست بہار کے مویشی پروری کے محکمے سے تقریبا دس ارب روپے نکالے گئے۔ یہ رقم چارے پر صرف ہونی تھی مگر الزام یہ ہے کہ لالو سمیت کئی رہنماؤں اور اعلی افسروں نے اس رقم میں غبن کیا تھا - اس وقت ریاست بہار تقسیم نہیں ہوا تھا۔ لیکن تقسیم ہونے کے بعد کچھ معاملوں کو جھارکھنڈ منتقل کر دیا گیا تھا۔ آج کا یہ مقدمہ رانچی کی دو عدالتوں میں پیش ہوا تھا۔ سماعت کے دوران لالو پرساد یادو اور جگنّاتھ مشرا بھی عدالت میں موجود تھے۔ ان میں سے ایک معاملے میں مسٹر یادو نے خود اپنے کیس کی وکالت کرنے کی درخواست کی اور اجازت ملنے کے بعد اپنی صفائی پیش کرتے ہوئے انہوں نے عدالت میں کہا کہ ’وہ ہی اس معاملے کو سامنے لائے تھے اور ملک کا یہ پہلا مقدمہ ہے کہ جب شکایت کرنے والے پر ہی الزامات عائد کیے جارہے ہیں‘۔ اس سال کے دوران یہ چوتھا موقعہ ہے کہ جب پرساد یادو اور جگناتھ کے خلاف فرد جرم عائد کی گئی ہے۔ چارہ گھپلہ کیس اس وقت سامنے آیا تھا جب لا لو پرساد یادو بہار کے وزير اعلیٰ اور جگنّاتھ مشرا حزب اختلاف کے رہنما تھے۔ اسی گھپلے کے سبب لالو پرساد یادو کو وزیر اعلیٰ کا عہدہ چھوڑنا پڑاتھا اور انہیں کئی مرتبہ گرفتار بھی کیا جا چکا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||