BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 07 September, 2005, 07:41 GMT 12:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لالو میزائل: گائڈیڈ یا ان گائڈیڈ

لالو پرساد
مسٹر روی شنکر کا کہنا ہے کہ لالو صرف سیاسی خودغرضی سے گائڈ ہوتے ہیں
بہار میں آج کل ایک ایسے میزائل کا چرچہ ہے کہ جس کے نام سے دنیا واقف ہے لیکن اسکی خدمات محکمہ دفاع کو حاصل نہیں۔ دراصل یہ میزائل فوجیوں کی جنگ میں نہیں بلکہ سیاسی معرکہ آرائی میں استعمال کیاجاتا رہا ہے۔

اس میزائل کا نام ’ لالو میزائل‘ ہے۔ کانگریس اس میزائل کو ’گائڈیڈ‘ میزائل بنانا چاہتی ہے جبکہ حزب اختلاف اسے ’ان گائڈیڈ‘ کہہ رہا ہے۔

حال ہی میں کانگریس کے سینئر رہنما اور بہار کے انچارج دگوجۓ سنگھ نے لالو پرساد کی تعریف کرتے ہوئے انہیں میزائل قرار دیا تھا۔

مسٹر دگوجۓ سنگھ کا خیال ہے کہ اس میزائل کو اگر ایک ’گائڈیڈ میزائل‘ کی شکل دے دی جائے تو بہار کی سیاسی صورتحال بدل سکتی ہے۔

دگوجۓ سنگھ کا کہنا ہے کہ لالو میزائل اگر وزیر اعظم منموہن سنگھ اور کانگریس صدر سونیا گاندھی کے ذریعے گائڈ کیا جائےتو یہ کافی کارگر ثابت ہو سکتا ہے۔ دگوجۓ سنگھ کی رائےہے کہ لالومنفی تاثر کا شکار ہیں۔

خود لالو پرساد کا اس سلسلہ میں کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے البتہ حزب اختلاف بی جے پی کے لیڈر اور سابق مرکزی وزیر روی شنکر کا خیال ہے کہ لالو اپنی فطرت سے ان گائڈیڈ ہیں۔ انہیں کوئی گائڈ نہیں کر سکتا۔

مسٹر روی شنکر کا کہنا ہے کہ لالو صرف سیاسی خودغرضی سے گائڈ ہوتے ہیں۔ انہوں نے یہاں تک کہ دیا کہ لالو کو جس نے گائڈ کرنے کی کوشش کی اسے الگ ہونا پڑا۔

اسی طرح لالو کی پارٹی سے ہمیشہ ٹکر لینے والی جماعت سی پی آئی ایم ایل کے جنرل سکرٹری دپنکر بھٹا چاریہ کا کہنا ہے کہ ’لالو میزائل’ کو عوام نے گزشتہ انتخابات میں ناکارہ بنا دیا ہے اور اسے دوبارہ لانچ کرنے کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہونے دی جائےگی۔

دپنکر کا کہنا ہے کہ کانگریس ’لالو میزائل’ کا استعمال غربا اور خاص طور پر پسماندہ ذات کے لوگوں کو برباد کرنے کے لیے استعمال کرےگی۔

بہار میں گزشتہ انتخابات فروری ماہ میں ہوئے تھے اور کسی جماعت یا اتحاد کو اکثریت نہ ملنے کی وجہ سے ریاستی اسمبلی کے ممبران کے حلف سے پہلے ہی اسمبلی تحلیل کر دی گئی تھی۔

اٹھارہ اکتوبر سے دوبارہ انتخابات ہونے والے ہیں۔ ابھی سے جو اشارے مل رہے ہیں اس سے ایک بار پھر انتخابات میں لالوموضوع بحث بن گئے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد