لالو کے خلاف فرد جرم داخل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مرکزی تفتیشی بیورو یعنی ’سی بی آئی‘ نے ریلوے کے وزیر لالو پرساد یادو کے خلاف کروڑوں روپے کے غبن کے الزام میں فرد جرم داخل کردی ہے۔ حزب اختلاف نے لالو یادو سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔ یادو پر مویشی پروری محکمے سے غیر قانونی طور پر 37 کروڑ روپے نکالنے کے معاملے میں ملزم بنایا گیا ہے- ان کے ساتھ سابق وزیر اعلي جگن ناتھ مشرا اور 68 دیگر افراد کے خلاف بھی اس معاملے میں فرد جرم داخل کی گئی ہے۔ چارہ گھپلے کے نام سے مشہور یہ معاملہ 1996 میں روشنی میں آیاتھا۔ تفتیش کاروں کے مطابق کئي برسوں کے دوران مویشی پروری کے محکمے سے تقریبن دس ارب روپے نکالے گئے۔ یہ رقم چارے پر صرف ہونی تھی۔ الزام یہ ہے کہ لالو سمیت کئی رہنماؤں اور اعلی افسروں نے اس رقم میں غبن کیا- آج کا مقدمہ جھارکھنڈ کی ایک عدالت میں دائر کیا گیا ہے- اگر جرم ثابت ہو گیا تو لالو کو سات سال تک کی قید ہو سکتی ہے۔ لالو فرد جرم داخل کرتے وقت عدالت میں موجود تھے۔ ا نھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے خلاف مقدمات سیاسی محرکات پرمبنی ہیں- ''یہ انتقامی کارروائی کا مقدمہ ہے۔ سابقہ مرکزی حکومت نے سی بی آئی کو میرے خلاف استعمال کیا ہے''۔ لالویادو فرد جرم کو ہائی کورٹ میں چیلنج کریں گے۔ ان کی اتحادی کانگریس پارٹی نے ان کے استعفی کا مطالبہ مسترد کر دیا ہے- کانگریس کا کہنا ہے کہ'' بی جے پی دوہرے میعار کا استعمال کر رہی ہے۔'' لالو کے لئے یہ مشکل گھڑی ہے۔ اگر عدالت نے کسی مرحلے پر انہیں گرفتار کرنے کا حکم دیا تو انھیں وزارت سے مستعفی ہونا پڑے گا۔ اس سے قبل ایک بار وہ وزیر اعلی کے عہدے سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||