’ِبہار اسمبلی کی تحلیل غلط تھی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتی سپریم کورٹ نے اپنے ایک فیصلے میں ریاست بہار کی اسمبلی کی تحلیل کوغیر آئینی قرار دے دیا ہے تاہم عدالت نے کہا ہے کہ اس ماہ میں ہونے والے ریاستی اسمبلی کے انتخابات طے شدہ تاریخوں کے مطابق جاری رہیں گے۔ وفاقی حکومت نےگزشتہ مئی میں حکومت سازی کے بغیر ہی اسمبلی تحلیل کر دی تھی۔ عدالت نے یہ فیصلہ این ڈی اے یعنی قومی جمہوری محاذ کی جانب سے بہار اسمبلی کو تحلیل کیے جانے کے خلاف دائر کی گئی ایک درخواست پر سنایا۔ درخواست میں کہا گیا تھا کہ مرکزي حکومت نے بہار اسمبلی تحلیل کیے جانے کی سفارش ایک ایسے وقت میں کی تھی جب این ڈی اے محاذ اسمبلی میں اپنی اکثریت ثابت کرنے کےکافی قریب تھا۔ بہار میں قومی جمہوری محاذ کی طرف سے وزارتِ اعلٰی کے دعوے دار نتیش کمار نے عدالت کے اس فیصلے کے بعد وزیر اعظم منموہن سنگھ سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے بہار کے گورنر بوٹا سنگھ کو بھی فوری طور پر واپس بلانے کا مطالبہ کیا ہے۔ راشٹریہ جنتا دل کے صدر لالو پرساد یادو نے عدالت کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہار میں انتخابات ہی آخری راستہ تھا اور عدالت نے انتخابات کے عمل کو جاری رکھا ہے۔ بہار میں اس سال کے شروع میں انتخابات ہوئے تھے لیکن کسی بھی جماعت کو اکثریت حاصل نہیں ہو سکی تھی اور تقریباً ڈھائی میہنے کے انتظار کے بعد ریاست میں صدر راج نافذ کر دیا گيا تھا ۔ وزیرِاعظم منموہن سنگھ نے ریاست بہار میں جاری سیاسی سرگرمیوں کے بارے میں کہا تھا کہ ریاست میں ارکان کی خرید و فروخت کا سلسلہ جاری ہے اور دوبارہ انتخابات کرائے جانے کے علاوہ دوسرا کوئی راستہ نہیں ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||