بہار میں انتخابی سرگرمیاں شروع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بہار کےگورنر بوٹا سنگھ نے اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے کے لیے نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔ اس کےساتھ ہی ریاستی اسمبلی کے لیے انتخابی سرگرمیوں کا باقاعدہ آغاز ہوگیا ہے۔ انتخابات چار مرحلوں میں ہونگے اور پہلے مرحلے کی پولنگ اٹھارہ اکتربر کو ہوگی۔ نوٹیفکیشن کے ساتھ ہی جمعہ سے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کا عمل شروع ہوگیا ہے۔ ان انتخابات میں حکمراں یوپی اے اتحاد اور اور بی جے پی کے زیر قیادت این ڈی اے محاذ کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔ دونوں اتحادوں نے اپنے امیدواروں کی پہلی فہرست بھی جاری کردی ہے۔ بہار میں گزشتہ فروری میں انتخابات ہوۓ تھے اور اس میں کسی بھی اتحاد کو اکثریت نہیں مل سکی تھی۔ دونوں حریف اتحادیوں کی طرف سے حکومت سازی کوششیں بھی ناکام ثابت ہوئی تھیں۔ ان حالات میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ ریاست میں لالو پرساد یادو کی جماعت راشٹریہ جنتادل ’آر جے ڈی‘ گزشتہ پندرہ برس سے اقتدار میں رہی ہے اور ریاست کے عوام تبدیلی کے خواہاں ہیں۔ لالو پرساد یادونے کانگریس، مارکسی کمیونسٹ پارٹی اور نیشنلسٹ کانگریس پارٹی سے اتحاد کر رکھاہے۔ دوسری جانب سے بھارتیہ جنتا پارٹی اور جنتادل یونائیٹڈ کا اتحاد ہے۔ رام ولاس پاسوان بھی انتخابی میدان میں ہیں اور انکی جماعت بجاۓ خود کوئی قابل ذکر کامیابی حاصل کرنے کے صرف دونوں اتحادیوں کو کچھ حد تک نقصان پہونچا سکتی ہے۔ بہار کے انتخابات بی جے پی کے لیے بہت اہم ہیں۔ اگر اسے بہار میں کامیابی ملتی ہے تو اس سے قیادت کے بحران کی شکار بی جے پی کو حوصلہ ملےگا اور وہ مایوسی سے نکل سکے گی۔ بی جے پی کے لیے بہار ایک اچھا موقع ہے جہاں اسکے اقتدار میں آنے کے امکانات قوی ہیں۔ اگر وہ اس میں کامیاب ہوئی تو پارٹی ایک بار پھر کانگریس کو مرکز میں چیلنج کرنے کی تیاری کرے گی۔ لیکن اگر وہ ان انتخابات میں شکست سے دو چار ہوئی تو بی جے پی کی قیادت میں این ڈی اے یعنی قومی جمہوری محاذ کا بھی شیرازہ بکھر جائیگا اور ایک بار پھر کانگریس کے سامنے کوئی مضبوط اپوزیشن اتحاد نہیں بچے گا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||