لالٹین نہیں جلے گی: الیکشن کمیشن | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بہار میں آئندہ اسمبلی انتخابات کے انعقاد میں ابھی تقریباً دو ماہ کا وقت ہے لیکن الیکشن کمیشن کے بعض احکامات موضوعِ بحث بن گئے ہیں۔ ایک ایسے ہی حکم میں ریاستی الیکشن کمیشن نے انتخابات کے دوران سرکاری دفتروں میں لالٹین جلانے پر پابندی لگا دی ہے۔ لالٹین لالو پرساد کی پارٹی آر جے ڈی کا انتخابی نشان ہے۔ آر جے ڈی کے ترجمان شوانند تواری نے اس حکم پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کو پولنگ بوتھوں پر جانے والے سارے لوگوں کے ہاتھ کاٹ دیے جانے چاہییں کیوں کہ یہ کانگریس کا انتخابی نشان ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لالٹین’اور ہاتھ کے علاوہ اگر کسی پارٹی کا انتخابی نشان ٹیبل کرسی ہے تو اسے بھی پولنگ بوتھوں سے باہر رکھنا چاہیے۔ مسٹر تواری کا کہنا تھا کہ اس طرح کے حکم سے آر جے ڈی کو کوئی نقصان تو نہیں ہوگا لیکن ایسے احکامات کے پس پردہ الیکشن کمیشن کی منشا کیا ہے، یہ سمجھ سے باہر ہے۔ ریاست کے چیف الیکشن کمشنر مسٹر این کے سنہا کا کہنا ہےکہ اس طرح کی پابندی صرف لالٹین پر نہیں لگائی گئی ہے بلکہ گھڑی اور ایسے دوسری اہم انتخابی نشانات پر بھی ایسی ہی پابندی ہے۔ مسٹر سنہا کہتے ہیں کہ کمیشن کی واضح ہدایت ہے کہ سیاسی پارٹیوں کے انتخابی نشان والی کسی چیز کا استعمال انتخابی ڈیوٹی میں نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے بتایا کہ دیہی علاقوں میں روشنی کے لیے لالٹین کا استعمال کیا جاتا ہے چناچہ اس بار انتخابی کمیشن نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ پولنگ بوتھوں پر روشنی کے لیے لالٹین کا استعمال بالکل نہیں کیا جائےگا۔ انتخابی کاموں کے دوران لالٹین پر پابندی کی یہ خبر تب سامنے آئی جب ریاستی الیکشن کمیشن نے تمام اضلاع کے مجسٹریٹوں کو بھیجے گئے خط میں یہ ہدایت دی۔ واضح رہے کہ بہار میں اس سال کسی سیاسی پارٹی کو واضح اکثریت نہ ملنے کی وجہ سے اسمبلی تحلیل کر دی گئی تھی اور یہ معاملہ فی الحال سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔ دوسری جانب الیکشن کمیشن اکتوبر یا نومبر میں نئے انتخابات کی تیاری میں مصروف ہے۔ الیکشن کمیشن انتخابات کی تاریخ کے نوٹیفیکیشن کے بعد ایک ماڈل کوڈ آف کنڈکٹ نافذ کرتا ہے اور اس دوران تمام تعیناتی اور تبادلے اسکی اجازت کے بعد ہی ہو تے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||