بہار اسمبلی تحلیل، وضاحت طلب | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی سپریم کورٹ نے بہار اسمبلی تحلیل کرنے کے معاملے میں وفاقی حکومت سے حلف نامہ داخل کرنے کو کہا ہے۔ عدالت عظمی نے اس پورے معاملے پر وضاحت طلب کی ہے کہ آخر حکومت نےکن بنیادوں پر اسمبلی تحلیل کرنے کی سفارش کی تھی۔ بہار کے چند سابق ارکان اسبلی کی عرضی پر سماعت کے بعد عدالت عظمی نے کہا ہے کہ اسبلی تحلیل کرنے کے معاملے میں عدالت کی جانب سے مداخلت کی زیادہ گنجائش نہیں ہے اس لیے اس موقع پر حکومت کو نوٹس جاری نہیں کیاگيا ہے۔ لیکن عدالت عظمی نے وفاقی حکومت سے اس پورے معاملے میں دو ہفتے کے اندر ایک حلف نامہ داخل کرنے کو کہا ہے۔ اپنے حلف نامے میں حکومت کو یہ واضح کرنا ہوگا کہ آخر کیوں عرضی گزار کی درخواست کی بنیاد پر حکومت پر مقدمہ نہ چلایا جاۓ۔ حکومت کی طرف سے حلف نامہ داخل ہونے کے ایک ہفتے بعد عرضی گزاروں اسکا جواب دینا ہوگا۔ اسی دوران این ڈی اے یعنی قومی جمہوری محاذ نے تقریباً ایک سو پچیس ارکان اسمبلی کی دلی میں صدر اے پی جے عبدالکلام کے سامنے پریڈ کروائی ہے۔ بی جے پی کی قیادت میں ان رہنماؤں نے یہ دعوی کیا کہ حکومت سازی کے لیے ارکان اسمبلی کی اکثریت تھی لیکن گورنر نے اس کا موقع نہیں دیا تھا ۔ اس برس کے اوائل میں بہار اسمبلی کے انتخابات میں کسی ایک جماعت کو اکثریت حاصل نہ ہونے کے سبب حکومت نہیں بن سکی تھی۔ لیکن گزشتہ ماہ جنتہ دل یونائٹیڈ کے رہنماء نتیش کمار کی قیادت میں حکومت سازی کوششیں تیز ہوئی تھیں اور امکان یہ تھا کہ مسٹر نتیش نئی حکومت سازی کا دعوی پیش کریں گے لیکن تبھی تقریباً ڈھائی ماہ کے انتظار کے بعد بہار کے گورنر بوٹا سنگھ نے اسمبلی تحلیل کرنے کی سفارش کر دی تھی۔ گورنر بوٹا سنگھ کا کہنا تھا کہ حکومت سازی کے لیے ارکان اسمبلی کی خرید و فروخت ہورہی تھی۔ لیکن تحلیل شدہ اسمبلی کے بہت سے ارکان کا الزام ہے کہ مرکزی وزیر لالو پرساد یادو کے اشارے پر اسبملی تحلیل کی گئی تھی۔ فی الوقت بہار میں صدر راج نافذ ہے اور وہاں دوبارہ انتخابات کا انتظار ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||