بہار اسمبلی تحلیل کرنے کا فیصلہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گزشتہ دو دنوں میں ڈرامائی سیاسی تبدیلیوں کے بعد صدر نے بہار کی نو منتخب اسمبلی تحلیل کر دی ہے۔ وزیر داخلہ شِو راج پاٹل نے کہا کہ بہار میں غیر آئینی حالات پیدا ہوگئے تھے اور حکومت کے پاس اسمبلی تحلیل کرنے کی سفارش کے علاوہ کوئی دوسرا چارہ نہیں تھا۔ بہار کے سابق وزیر اعلیٰ لالو پرساد یادو نے کہا ہے کہ صدر کے اس فیصلے سے بہار میں جمہوریت پامال ہونے سے بچ گئی۔ لیکن حزب اختلاف نے اس قدم کو غیر جمہوری قرار دیا ہے اور الزام لگایا ہے کہ کانگریس پچھلے دروازے سے بہار میں حکومت کرنا چاہتی ہے۔ حزب اختلاف کی جماعتیں بی جے پی کی قیادت میں ایک زبردست مہم کی تیاریاں کر رہی ہیں۔ اس سے قبل رام ولاس پاسوان کی جماعت لوک جن شکتی پارٹی میں اتوار کو پھوٹ پڑ گئی تھی اور تقریباً دو تہائی ارکان اسمبلی نے حکومت سازی کے لیے بی جے پی کے اتحاد کی حمایت کا اعلان کر دیا تھا۔ لالو پرساد یادو نے الزام لگایا ہے کہ حکومت سازی کے لیے جوڑ توڑ کا سلسلہ شروع ہو گيا تھا اس لیے اسمبلی تحلیل کرنا ہی سب سے مناسب قدم تھا۔
جب کہ بی جے پی کے رہنما وینکیا نائیڈو نے کہا ہے کہ ریاست میں ان کے اتحاد کی حکومت بننے کے امکانات پیدا ہو گئے تھے۔ ’ کانگریس ریاست میں غیر کانگریسی حکومت بنتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہتی ہے۔‘ اسمبلی تحلیل ہونے کے بعد بہار میں ایک بار پھر الکشن کا انعقاد کرانے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہا۔ مانسون کے سبب انتخابات اب ستمبر کے بعد ہی ہو سکیں گے۔ گزشتہ انتخاب میں کسی بھی جماعت یا اتحاد کو اکثریت نہیں مل سکی تھی۔ توقع یہی ہے کہ اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے کچھ نئے سیاسی اتحاد سامنے آ سکتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||