BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بہار: صدر راج، ممبر بے روزگار

بہار میں ارکان اسمبلی کو بیس ہزار ماہانہ تنخواہ ملتی ہے
بہار میں ارکان اسمبلی کو بیس ہزار ماہانہ تنخواہ ملتی ہے
ریاستی اسمبلی کے لیے فروری کے انتخابات کے نتائج کا اعلان ہوئے ایک ماہ گزر نے کو ہے لیکن ارکان کی تنخواہ اور ان کے الاؤنسز کا معاملہ تاحال حل طلب ہے۔

نو منتخب ایم ایل ایز کے نمائندہ بی جے پی کے رکن اسمبلی رامیشور پرساد نے اس معاملے پر سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے جہاں چار اپریل کو سماعت شروع ہونے والی ہے۔

بہار میں ایک رکن اسمبلی کو تنخواہ اور الاؤنسز کے طور پرماہانہ تقریباً بیس ہزار روپے مل جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ 48 ہزار روپے سالانہ ٹیلی فون بل اور سال بھر کے ریل یا ہوائی سفر کے لیے ایک لاکھ روپے کے کوپن کے حقدار ہوتے ہیں۔

ان نو منتخب ممبران اسمبلی کے لیے سب سے زیادہ تکلیف دہ بات اس ایک کروڑ روپے پر روک ہے جو انہیں ہر سال اپنے اسمبلی حلقے میں ترقیاتی کاموں کے لیے دیے جاتے ہیں ۔ مگر یہ تمام سہولیات انہیں تب حاصل ہونگی جب رکن اسمبلی کے طور پر ان سے حلف لیا جائےگا۔

رامیشور پرساد کہتے ہیں کہ ’ ہم ایم ایل اے تو بن گۓ لیکن یہ کسی کام کا نہیں۔ جب پیسے نہیں ملیں گے تو وہ اپنے علاقے میں ترقیاتی کام کیسے کرائیں گے؟ ‘ وہ کہتے ہیں کہ ’ ہم تو بےروزگار ہو گۓ ہیں۔ اسمبلی سے کچھ مل نہیں رہا اور رکن اسمبلی ہونے کی وجہ سے نوکری کر نہیں سکتے کیوں کہ اس صورت میں رکنیت کالعدم ہو جائے گی۔ اپنے علاقے میں جائیں تو بلاک ڈویلپمنٹ افسر پوچھتے ہیں نہ ضلع میجسٹریٹ۔‘

مسٹر رامیشور نے بتایا کہ سپریم کورٹ میں معاملہ لے جانے کے بعد تمام جماعتوں کے ارکان اسمبلی نے انہیں مبارکباد دی ہے۔

وہ پوچھتے ہیں کہ اسمبلی کو معطّل رکھ کر صدر راج نافذ ہونے کی صورت میں اتر پردیش میں رکن اسمبلی کو تمام سہولتیں دی جاتی ہیں تو بہار میں ایسا کیوں نہیں؟

بہار کی نو منتخب اسمبلی میں 146 نئے اور 97 پرانے ارکان ہیں۔انتخابات جیتنے کے لیے سیاستداں لاکھوں روپے خرچ کرتے ہیں۔ عام طور پر یہ تصور کیا جاتا ہے کہ رکن اسمبلی کے لیے اپنے ’خرچے‘ وصول کرنے کا موقع انکی حلف برداری کے بعد ہی شروع ہو جاتا ہے۔

سینئر صحافی ارون کمار پانڈے کا کہنا ہے کہ موجودہ صورت حال میں حلف برداری کے بغیر ارکان کو تنخواہ اور الاؤنس صرف پارلیمنٹ کی منظوری سے ممکن ہے۔ ان حالات میں ارکان بے روز گار بیٹھے حکومت سازی کی دعائیں مانگ رہے ہیں ۔

بہار کے اسمبلی انتخابات میں کسی بھی جماعت یا اتحاد کو اکثریت نہیں مل سکی تھی جس کے سبب وہاں صدر راج نافذ کر دیا گيا ہے۔

صدر راج کی مدت ایک بار میں چھ ماہ ہوتی ہے ۔ اگر اس مدت میں کوئی نیا سیاسی اتحاد حکومت سازی کا دعوی کرتا ہے اور ارکان تحریری طور پر اپنی حمایتوں کا یقین دلاتے ہیں تو گورنر حکومت سازی کی سفارش کر سکتا ہے۔

اس وقت بہار میں حکومت سازی کے لیے پس پردہ کوششیں کی جارہی ہیں۔

تجربہ کار لوگوں کا کہنا ہے کہ نو منتخب ارکان بالخصوص نئے ارکان کی جانب سے اپنی اپنی قیادت پر شدید دباؤ ہے کہ وہ حکومت سازي کے لیے دیگر جماعتوں سے سمجھوتہ کریں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد