بہار میں صدر راج نافذ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستانی کی مرکزی حکومت نے کافی غور وخوض کے بعد بہار میں صدر راج کے نفاذ کی منظوری دے دی ہے۔ یہ فیصلہ کابینہ کے ایک خصوصی اجلاس میں کیا گیا۔ لیکن ریلوے کے وزیر لالو پرساد یادو اور ان کے حریف کیمکل اور فریٹلائزر کے وزیر رام ولاس پاسوان نے اس میٹنگ میں شریک نہیں ہوئے۔ نو منتخب اسمبلی کو معطل کردیا گیا ہے یعنی منتخب ارکان اب وہ سہولیات نہیں حاصل کر سکیں گے جو حکومت بننے کی صورت میں انہیں حاصل ہوں گی۔ صدر راج کے نفاذ کے لیے لاو اور پاسوان دونوں نے ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرایاہے لیکن اب مسٹر پاسوان پر زیادہ دباؤ رہے گا۔ صدر راج کی مدت چھ ماہ کے لیے ہوتی ہے اور اس مدت میں حکومت سازی کی کوششیں ایک بار پھر تیز ہوں گی۔ اسمبلی میں کسی بھی اتحاد کو اکثریت حاصل نہیں ہوئی ہے۔ رام ولاس پاسوان کی جماعت لوک جن شکتی پارٹی کو انتیس سیٹیں ملی ہیں اور وہ جس اتحاد کی حمایت کریں گے۔ اس کی حکومت بن جائے گی۔ لیکن فی الوقت انہوں نے بی جے پی کے قیادت والے اتحاد این ڈی اے اور لالو پرساد دونون سے ہی فاصلہ بنا رکھا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پاسوان پر دباؤ بڑھتا جائے گا کہ وہ کوئی ایک راستہ اختیار کریں۔ یہی نہیں کروڑوں روپے صرف کرکے کامیاب ہونے والے ارکان زیادہ دنوں تک صدر راج کے متحمل نہیں ہوسکتے اور یہ صورت حال مسٹر پاسوان کے لیے فیصلہ کن ثابت ہوسکتی ہے۔ لیکن اس کشمکش میں بہار کی سیاست میں محدود رہ جانے والی کانگریس صدر راج کے توسط سے براہ راست ریاست پر حکومت کرگی اور اس کے لیے یہ بہترین موقع ہے کہ وہ ترقی اور بہترین انتظامیہ کے زریعے عوام کا دل جیت سکتی ہے۔ لیکن فی الوقت صدر راج کے نفاذ کے ساتھ ہی بہار میں لالو پرساد یادو اور ان کی اہلیہ رابڑی دیوی کے اقتدار کے پندرہ برس کے دور کا ختم ہوگیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||