BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 02 April, 2005, 11:54 GMT 16:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بہار میں حکومت سازی کی تیاریاں

رام ولاس پاسوان
لوک جن شکتی پارٹی کےصدر رام ولاس پاسوان
بھارتی ریاست بہار میں نئی حکومت سازی کے لیے کوششیں تیز ہوگئی ہیں۔

اس سلسلے میں ریاست کے چند اہم رہنماؤں نے ایک دوسرے سے بات چیت کے بعد کہا ہے کہ ریاست میں جلد ہی ایک نئی حکومت تشکیل پا جائے گی۔ بہار کے اسمبلی انتخابات میں کسی بھی پارٹی کو واضح اکثریت نہیں ملی تھی جس کی وجہ سے وہاں صدار تی راج نافذ ہے۔

ہفتے کے روز لوک جن شکتی پارٹی کےصدر رام ولاس پاسوان اور جنتادل (یو) کے لیڈر نتیش کمار نے سماج وادی پارٹی کے رہنما ددن پہلوان سے بات چیت کی۔ میٹنگ کے بعد مسٹر پاسوان نے کہا کہ جلد ہی بہار میں نئی حکومت بنے گی۔ اس موقع پر ددن پہلوان نے بھی کہا کہ انکی جماعت نئی حکومت کی تشکیل میں مدد کریگی۔

حکومت سازی کی نئی مہم کا آغاز جنتادل (یو) نے کیا ہے۔ پٹنہ میں تین روزہ کانفرنس کے بعد پارٹی نے ایک مشترکہ پروگرام تیار کیا ہے اور اسے اس گزارش کے ساتھ تمام سیاسی جماعتوں کو بھیجا ہے کہ لالو کی مخالف جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو کر نئی حکومت تشکیل دینی چاہیے۔

جنتادل (یو) اور بی جے پی نے ایک ساتھ مل کر انتخاب لڑا تھا اور رام ولاس پاسوان یہ کہتے رہے ہیں کہ اگر جے ڈی یو بی جے پی سے ناطہ توڑ لے تو اسکی مدد سے حکومت بن سکتی ہے۔ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ جے ڈی یو نے بی جے پی سے رشتہ توڑ لیا ہے یا نہیں لیکن رام ولاس کا کہنا ہے کہ وہ بی جے پی سے نا تو حمایت لیں گے اور نہ ہی اس کا ساتھ دیں گے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ جے ڈی یو کے تازہ اقدامات سے لگتا ہے کہ وہ بی جے پی سے الگ ہو سکتی ہے۔

بہار کی دو سو تینتالیس رکنی اسمبلی میں حکومت بنانے کے لیے ایک سو بائیس ارکان درکار ہونگےاور جنتادل اور لوک جن شکتی پارٹی کے اکٹھے ہونے سے یہ تعداد پوری نہیں ہوگی۔ ان جماعتوں کو آزاد اور اور دیگر ارکان کی حمایت چاہیے۔

بہار میں صدر راج نافذ ہے اور نئے منتخب ارکان سرکاری سہولیات حاصل کرنے کے لیے بے تاب ہیں۔ انکی کوشش ہے کہ جلد کوئی حکومت تشکیل پاۓ تاکہ انہیں انکی تنخواہیں ملنی شروع ہوں ۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر جنتادل یو بی جے پی سے اپنا ناطہ توڑ تی ہے تو اسکا اثر بہار کی سیاست تک ہی محدود نہیں رہے گا۔ رام ولاس پاسوان مرکزی حکومت میں ایک وزیر ہیں اور کانگرس بہارمیں پاسوان کے بجاۓ لالو کے ساتھ ہے۔ ایسی صورت میں ممکن ہے کہ قومی سطح پر نئے سیاسی جوڑ توڑ شروع ہوں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد