BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 22 March, 2005, 13:19 GMT 18:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شیرشاہ سوری کا مقبرہ

شیرشاہ سوری کا مقبرہ
ضلع انتظامیہ کی عدم دلچسپی کی وجہ سے مقبرہ کی حالت بد تر ہوئی ہے۔
عہد وسطی کے عظیم افغان بادشاہ شیرشاہ سوری کا مقبرہ حکومت ہند کے اعلان کے مطابق ’سرکاری حفاظت‘ میں ہے لیکن فنِ تعمیر کی یہ منفرد مثال اپنی بقاء کی سخت جنگ میں تنہا نظر آتی ہے۔

بہار کے دارالحکومت پٹنہ سے تقریباً پونے دو سو کیلو میٹر دور شہر سہسرام میں واقع اس مقبرہ کی دیواروں میں لگے پتھر چٹخ رہے ہیں اور عمارت کے بعض حصے ٹوٹ کر گر گۓ ہیں۔

یہاں کبوتروں اور شہد کی مکھیوں نے اپنے آشیانے بنا لۓ ہیں مقبرے کا اندرونی حصہ تاریک رہتا ہے اور یہاں مکڑیوں کے جالے پھیلے رہتے ہیں۔
مقامی لوگ اسے پانی والا روضہ کہتے ہیں ۔

کبھی یہاں نہر سے پانی آتا تھالیکن اب یہ بند ہے اور اس میں مورتیاں ’وسرجت’ کی جاتی ہیں۔

اس تاریخیی مقام پر آکر یہ احساس ہوتا ہے کہ کوئی تاریخی ورثہ کیسے تاریخ کے باقیات میں شامل ہو جاتا ہے۔ سہسرام میں ایک دو اچھے ہوٹل دیکھ کر لگا کہ شاید یہ روضہ دیکھنے والوں کی سہولت کے لۓ ہوں گے مگر یہ جان کر سخت حیرت اور افسوس ہوا کہ یہ ہوٹل چاول کے تاجروں کی بدولت بھرے رہتے ہیں۔

تاریخ کے استاد اور خدا بخش لائبریری کے ڈائرکٹر پروفیسر ڈاکٹر امتیاز احمد نے بتایا کہ یہ واحد مقبرہ ہے جو جھیل کے بیچ و بیچ ہے اور ہندوستان میں اسکے بعد کوئی ہشت محل مقبرہ نہیں بنا۔

ہندوستان میں یہ سب سے اونچا مقبرہ تصور کیا جاتا ہے۔ کچھ ہی فاصلے پر شیرشاہ کے والد حسن خاں سورر کا مقبرہ ہے جو ’سوکھا روضہ‘ کہلاتا ہے۔

مقبرہ کا اندرونی حصہ بالکل تاریک رہتا ہے۔ شیر شاہ کے قبر کی پہچان اس پر ڈالی گئ چادر سے کرائئ جاتی ہے۔

حکومت ہند کے محکمہ آثار قدیمہ نے شیرشاہ کے مقبرہ کو تحفظ یافتہ قرار دیا ہے۔ اس کےاعلان کے مطابق اس عمارت کے سو میٹر کے دائرے کو ’انتہائی ممنوع‘علاقہ مانا گیا ہے اور اس کے دو سو میٹر فاصلے کو ’مقررہ علاقہ‘ قرار دیا گیا ہے۔

اس اعلان کے مطابق سو میٹر کے دائرہ میں کسی طرح کی تعمیر ممنوع ہے۔

سرکار کے اعلانات اپنی جگہ، حقیقت یہ ہے کہ مقبرہ کے احاطے میں ہی ایک مندر اور شادی کا منڈپ بنا دیا گیا ہے۔

مقبرہ سے متصل بھی کئ عمارتیں تعمیر کی گئ ہیں۔ آرکیولوجیکل سروے آف انڈیا، پٹنہ سرکل کی سپرینٹینڈنگ آرکیولوجسٹ ڈاکٹر ارمیلا سنت کہتی ہیں کہ حالت یہ ہے کہ اس تاریخی عمارت کے لۓ سانس لینے کی جگہ بھی نہیں بچی۔

مندر کا معاملہ کورٹ میں ہے، اسلۓ اس موضوع پر کوئی کچھ نہیں کہنا چاہتا۔

مکھیوں کے چھتے
محفوظ قرار دی جانے والی تاریخی عمارت کا حال

ہم نے جب یہ جاننا چاہا کہ روضے کے چاروں طرف کا پانی بدبودار کیوں ہے تو سہسرام کے کنزرووشن اسسٹنٹ نیرج کمار نے بتایا کہ آس پاس کے گھروں کی نالیاں اسی میں گرتی ہیں اور درگا پوجا کے دوران مورتیاں اسی میں ’وسرجت’ کی جاتی ہیں۔

یہاں سے پانی کا آنا جانا اسلۓ بند ہے کہ محکمہ آبپاشی والوں نے اس کے راستے بند کر دئے ہیں۔ ڈاکٹر سنت کہتی ہیں کہ وہ اس بات کے لۓ کوشاں ہیں کہ نالی کا پانی اس میں نہ گرے اور نہر سے اسے تازہ پانی ملنے لگے۔

ہم نے جب کبوتروں اور شہد کی مکھیوں کا تذکرہ کیا تو دونوں اہلکاروں نے کہا کہ وہ کبوتروں کا تو کچھ نہیں کر سکتے البتہ شہد کی مکھیوں کے چھتے کو جلد ہی ہٹا لیا جاۓگا۔

دیواروں میں جو شگاف ہیں اس کے بارے میں ڈاکٹر سنت نے بتایا کہ جلد ہی اسکی مرمت کی جاۓگی۔

سہسرام کے ضلع میجسٹریٹ احسان احمد سے جب یہ پوچھا گیا کہ شہر کی نالیاں روضہ کی جھیل میں کیوں گرتی ہیں تو انہوں نے بتایا کہ جلد ہی میونسپیلیٹی کے نالے بناۓ جائیں گے۔

محکمہ آثار قدیمہ کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ ضلع انتظامیہ کی عدم دلچسپی کی وجہ سے مقبرہ کی حالت بد تر ہوئی ہے۔

وہاں مورتیاں ڈبونے کی وجہ سے کافی گندگی پھیلی رہتی ہے۔ دوسری جانب ضلع میجسٹریٹ کہتے ہیں کہ سال میں ایک بار ہی ایسا ہوتا ہے۔ ’کیا اس بار اسے روکا جائے گا؟

شیر شاہ کا مقبرہ
مقبرے کے احاطے میں مندر

اس سوال کے جواب میں وہ کہتے ہیں کہ ابھی تو پوجا میں بہت دیر ہے۔

مقبرے کے اطراف میں تعمیرات کو آثار قدیمہ والے لاقانونیت کا مسلہ مانتے ہیں۔ ڈاکٹر سنت کہتی ہیں کے اس سلسلے میں متعدد بار ضلع انتظامیہ کو لکھا گیا، کمشنر سے لیکر چیف سکریٹری تک کو اطلاع دی گئی مگر کو ئی فائدہ نہ ہوا۔
ضلع میجسٹریٹ احسان احمد اسے قانون کا مسلہ ماننے سے انکار کرتے ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ اس ورثہ کی حفاظت محکمہ آثار قدیمہ کی ذمےداری ہےانتظامیہ کیا کریگی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد