تاجکستان میں بالی وڈ چھا گیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اب تک بھارت میں بننے والی سب سے مہنگی فلم دی رائزنگ نے صرف بھارت میں ہی نہیں بلکہ مرکزی ایشیا کے ایک دور دراز علاقے میں بھی دھوم مچا دی ہے۔ افغانستان اور تاجکستان کی سرحد کے قریب آئیچی نامی ایک چھوٹے سے گاؤں میں اس فلم کی شوٹنگ جاری ہے۔ فلم کے ہدایت کار کیتن مہتا کا کہنا ہے کہ انہوں نے شوٹنگ کے لیے آئیچی کو اس لئےچنا کیونکہ وہ انیسویں صدی کے افغانستان جیسا دکھتا ہے۔ دی رائزنگ کی کہانی افغانستان میں شروع ہوتی ہے۔ فلم میں بالی وڈ کے مشہور اداکار عامر خان مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔ تاجکستان کے دور دراز گاؤں میں بھی عامر خان کے چاہنے والوں کی کمی نہیں ہے۔ جب عامر اور ان کے ساتھی آئیچی پہنچے تو انہیں دیکھنے کے لیے لوگوں کا تانتا سا لگ گیا۔ آئیچی کے ایک نوجوان نے، جو کہ فلم میں ایک گھڑ سوار کا کردار ادا کر رہے ہیں، بتایا کہ انہوں نے سوچا بھی نہیں تھا کہ وہ کبھی عامر خان کی فلم میں کام کریں گے۔ فلم کی کہانی بھارتی آزادی کے ایک سپاہی منگل پانڈے کی زندگی پر مشتمل ہے۔ منگل پانڈے کو برطانوی اہلکاروں نے 1857 میں بغاوت کے الزام میں پھانسی لگا دی تھی۔ آج کل آئیچی میں ہر طرف بھارتی انقلابیوں اور برطانوی افسروں کے کردار ادا کرنے والے فنکار دکھائی دیتے ہیں۔ پہاڑوں پر ایک برطانوی کیمپ بھی تعمیر کیا گیا ہے۔ لگ بھگ بیس ملین ڈالر مہنگی یہ فلم بھارتی کلائلاوسکوپ کمپنی اور برطانوی کیپیٹول فلمز مل کر بنا رہے ہیں۔ بھارتی جدوجہد آزادی پر مشتمل تین تاریخی فلموں میں سے یہ پہلی ہے۔ عامر خان کے مطابق یہ فلم سچائی کے قریب ہے اور آج کی دنیا میں بھی اس کہانی کی اتنی ہی اہمیت ہے جتنی سو سال پہلے تھی۔ دی رائزنگ ہندی اور انگریزی میں بنائی گئی ہے اور اس کی نمائش بین الاقوامی سطح پر کی جائیگی۔ فلم کے پروڈیوسر بابی بیدی ہیں، جنہوں نے 1994 میں بینڈٹ کوین نامی مشہور فلم بنائی تھی۔ آئیچی کے گھڑ سواروں کے لیے پچھلا ہفتہ کافی مفید ثابت ہوا ہے۔ فلم میں چھوٹے کردار نبھانے والے تاجک نوجوانوں کو ایک دن کے کام کے لیےلگ بھگ تیس ڈالر دئے جا رہے ہیں جو کہ ان کی مہینے بھر کی کمائی سے بھی زیادہ ہے۔ تاجکستان کے اس علاقے میں کافی غربت ہے اور کام کرنے کے بہت کم مواقع موجود ہیں۔ کچھ لوگ دارالحکومت دشنبے میں ڈرایئوروں کا کام کرتے ہیں اور کچھ سرحد پار افغانستان میں مزدوروں کا کام کرتے ہیں۔ مگر فلم کو لے کر تاجکوں کی خوشی کی وجہ صرف روزگار ہی نہیں ہے۔ تاجک اپنی مہمان نوازی کے لیے مشہور ہیں اور فلم کے فنکاروں اور دیگر کام کرنے والوں کو اپنے گھر بلا کر ان کی خاطر کر رہے ہیں۔ عامر خان کا کہنا کہ یہاں کے لوگ نہایت ہی رحم دل اور مہربان ہیں۔ تاجکستان میں بالی وڈ میں بنی فلمیں نہایت ہی مقبول اور پسندیدہ ہیں، یہاں تک کہ اکثر لوگوں کو فلمی گانے پوری طرح یاد ہیں، حالانکہ وہ ہندی نہیں سمجھتے۔ دی رائیزنگ کچھ ماہ بعد دنیا بھر میں دکھائی جائےگی، مگر افسوس آئیچی میں نہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||