چاندنی راتوں میں تاج کھلا رہے گا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کی سپریم کورٹ نے تاج محل کو چاندنی راتوں میں سیاحوں کے لیے کھلے رکھنے کی مزید ایک سال تک اجازت دے دی ہے۔ سپریم کورٹ نے تاج محل کو سیاحوں کے لیے چاندنی راتوں میں کھلا رکھنے کا فیصلہ سکیورٹی کی صورت حال کا جائزہ لینے کے بعد سنایا ہے۔ گزشتہ سال نومبر میں تاج محل کو بیس سال بعد پہلی مرتبہ چاندنی رات میں کھولا گیا تھا۔ تاج محل کو انیس سو چوراسی میں دہشت گردی کے خطرے کے پیش نظر رات کے وقت بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ تاج محل کے چاندنی راتوں میں کھلے رکھنے کے فیصلے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس دوران ہزاروں سیاح چاندنی میں سنگ مرمر کی اس عمارت کا نظارہ کرنے کے لیے آگرہ کا رخ کرتے رہے۔ تاہم اس عمارت پر آنے والے سیاحوں کو سخت سکیورٹی سے گزرنا پڑتا ہے۔ سکیورٹی حکام سیاحوں کی پوری جامہ تلاشی لیتے ہیں اور تاج محل کے دروازے پر بم تلاش کرنے والے کتے بھی موجود رہتے ہیں۔
چاندنی رات میں سنگ مرمر کی اس عمارت کے نظارہ کے لیے سیاحوں کے لیے ایک خصوصی چبوترہ موجود ہے۔ انیس سو چوارسی میں بھارت کو سکھوں کی بغاوت کا سامنا تھا اور اندیشہ تھا سکھ انتہا پسند تاج محل کو بھی نشانہ بنا سکتے ہیں۔ مغل بادشاہ شاہ جہاں نےسترہویں صدی میں اپنی بیوی ممتاز محل کی یاد میں یہ مقبرہ تعمیر کیا تھا جو اپنی منفرد طرز تعمیر کی وجہ سے محبت کرنے والوں کے لیے ایک علامت کی صورت اختیار کر گیا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||