تاج محل چاندنی رات میں بھی کھلا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مغل بادشاہ شاہ جہان کے دور میں تعمیر ہونے والی ’محبت کی نشانی‘ تاج محل کو بیس سال بعد چاندنی رات میں دیکھنے کے لیے کھول دیا گیا ہے۔ تین سو پچاس پرانے تاج محل کو 1984 میں رات کے لیے بند کر دیا گیا تھا جب سکھوں کی علیحدگی پسند تحریک اپنے عروج پر تھے۔ ریاست اتر پردیش کی حکومت نے سپریم کورٹ میں ایک درخواست دی تھی کہ تاج محل کو چاندنی راتوں میں سیاحوں کے لیے کھول دیا جاۓ۔ عدالت نے یہ درخواست تو مان لی ہے لیکن اسکے لیے سخت شرائط بھی عائد کی ہیں۔ بیس سال جب تاج محل کو چاندنی رات میں نظارے کے لیے کھولا گیا تو اس وقت دو سوسے زیادہ پولیس اہلکار موجود تھے ۔ تاج محل جو دنیا کے سات عجوبوں میں سے ایک ہے، اب میہنے میں پانچ راتوں کو سیاحوں کے لیے کھلا رہے گا ۔ سپریم کورٹ نے اجازت دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر اس محل کی حفاظت میں کوئی کوتاہی برتی گئی تو وہ اپنا فیصلہ بدل دے گی۔ مکمل چاند سے دو روز قبل اور اسکے دو دن بعد کی کل پانچ راتیں ہر ماہ تاج محل کو دیکھنے والوں کے لیے کھلی رہیں گی۔ عدالت کا یہ فیصلہ آئندہ تین ماہ کے لیے عارضی طور پر ہے جسکے بعد وہاں کے نظم و نسق کا جائزہ لینے کے بعد اس فیصلے پر نظرثانی کی جاۓ گی۔ ایک رات میں صرف 400 افراد ہی تاج کے احاطے میں جانے کی اجازت تھی۔ لوگوں کو ایک وفد کی شکل میں اندر جانے دیا گیا۔اور ہر وفد 50 افراد پر مشتمل تھا اور وہ آدھے گھنٹے سے زیادہ دیر تک نہیں ٹہر سکتا تھا۔ حفاظت اقدامات کے تحت تاج محل کے احاطے کے آس پاس 500 میٹر تک کسی گاڑي کو داخل نہیں ہونے دیا گیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||