BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 26 September, 2004, 15:53 GMT 20:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
محبت کی یادگار کا 350واں سال

تاج محل
محبت کے اظہار کے لیے تعمیر کی جانے والی اس عمارت کے حوالے سے لوگوں کو دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے
محبت کی یادگار سے محبت کی علامت میں تبدیل ہونے والے ’تاج محل‘ کے ساڑھے تین سوبرس مکمل ہونے پر آگرہ شہر میں بہت سی تقریبات کا اہتمام کیا جارہا ہے۔

اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ ملائم سنگھ یادو اور ریاستی گورنر 27 ستمبر کو آگرہ فورٹ میں ان تقریبات کا افتتاح کریں گے۔ تہذیبی و ثقافتی پروگراموں کا یہ سلسہ کئی ماہ تک جاری رہے گا۔

اس موقع پر مؤرخین کے درمیان ایک بار پھر یہ بحث پھر چھڑگئی ہے کہ آخر سات عجوبوں میں سے ایک تاج محل کی عمر کیا ہے۔ اکثر مورخین کا کہنا ہے کہ مغل شہنشاہ شاہ جہاں کی ملکہ ممتازمحل کی وفات کے دو برس بعدتاج محل کی تعمیر شروع ہوئی اور سترہ برس میں مکمل ہوئی۔ اس حساب سے تاج محل کو تعمیر ہوئے تین سو پچاس برس ہوچکے ہیں۔

معروف مؤرخ و دانشور عرفان حبیب نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ بادشاہ نامے میں تاج محل کی تعمیر کے تمام منصوبوں کا ذکر ہے اور تحقیق سے پتہ چلتا ہے ان منصوبوں کو عملی جامہ بھی پہنایا گیا ہے۔ بادشاہ نامے کے مطابق تاج محل 1651 میں مکمل ہوگیا تھا۔

عرفان حبیب کے مطابق اتنے بڑے پروجیکٹ کی تکمیل میں وقت تو لگاتھا لیکن سب کچھ واضح ہے اور اختلافات کی گنجائش کم ہے۔
مغل بادشاہ شاہ جہاں نے اپنی بیوی ممتاز محل کی یاد میں مقبرہ بنانے کا فیصلہ کیا اور سترہ سال کی محنت کے بعد سنگ مرمر کی ایک شاندار عمارت تیار ہوگئی۔

تقریبا بیس ہزار مزدوروں نے اس میں کام کیا۔ کہا جاتا ہے کہ عیسیٰ شیرازی نامی ایک ایرانی انجینئیر نے اسکا نقشہ تیار کیا تھا لیکن بادشاہ نامے میں لکھا ہے کہ خود شاہ جہاں نے اس کا خاکہ تیار کیا تھا۔

تاج محل
تاج محل فنِ تعمیر کا نمونہ بھی ہے وجدان کو تحریک دینے والی علامت بھی

تاج محل مغلیہ دور کے فن تعمیر کا ایک عظیم شاہکار ہے اور ایک ایسی بے مثال عمارت ہے جو تعمیر کے بعد ہی سے دنیا بھر کے سیاحوں کی توجہ کا مرکز رہی ہے۔ محبت کی یہ لازوال نشانی شاعروں، ادیبوں، مصوروں اور فنکاروں کے لیے اگرچہ وجدان کا محرک رہی ہے لیکن حقیقت میں ایک مقبرہ ہے۔

عرفان حبیب کہتے ہیں کہ ہر ملک و قوم کو اپنی تہذیب و ثقافت پر فخر ہوتا ہے اور تاج محل ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کا مظہر ہے۔ عرفان حبیب کے مطابق تاج ایسا فن پارہ ہے جو موجودہ دور میں کمپوزٹ کلچر کی بھی عکاسی کرتا ہے۔

نئی دہلی میں ایک ادیب پروفیسر شمش الحق عثمانی کا کہنا ہے کہ تاج کے دیدار سے انسان میں جمالیاتی حس بیدار ہوتی ہے اور سرور کی ایک ایسی کیفیت طاری ہوتی ہے جو شاذ و نادر ہی میسر آتی ہے۔

کئی نوجوانوں کا کہنا ہے کہ تاج محل پیار و محبت کی علامت ہے لیکن تاریخ کے ایک طالب علم ہنسراج کہتے ہیں کہ تاج فنِ تعمیر کا ایک شاہکار ہے۔ دنیا کے بڑے بڑے حکمراں ہندوستان پہنچنے پر بڑے فخر سے تاج محل کے دیدار کو آگرہ جاتے ہیں۔

سن 1874 میں برطانوی سیاح ایڈورڈ لئیر نے کہا تھا کہ'' دنیا کے باشندوں کو دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے ایک وہ جنہوں نے تاج محل کا دیدار کیا اور دوسرے جو اس سے محروم رہے'' ۔

تاج محل ساڑھے تین سو برس قدیم ہے لیکن اسکے رکھ رکھاؤ میں بےتوجہی برتی گئی ہے۔ طویل العمری کے اثرات تاج پر بھی دیکھے جاسکتے ہیں۔ فضائی آلودگی کے سبب چمکتا ہوا سنگ مرمر پھیکا پڑ رہا ہے۔ کئی بار شوٹنگ اور موسیقی کے پروگرام کی لائٹنگ کے سبب بھی اسے نقصان پہنچا ہے۔

تاج محل
تاج محل کا سنگِ مرمر پیلا پڑنے لگا ہے

تاج محل اقوام متحدہ کی نادر و نایاب عمارتوں کی فہرست میں شامل ہے۔ حکومت نے اس کے تحفظ کے لیےاس کے آس پاس کثافت پھیلانے والی فیکٹریوں کو ممنوع قرار دیا ہے اور عمارت کی مرمت کے لیے ماہرین کی ایک ٹیم بھی مقرر کی ہے۔
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد