تاج محل: مینار جھک رہے ہیں؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کیا محبت کی عظیم یادگار، تاج محل کے مینار جھکتے جا رہے ہیں؟ جی ہاں۔ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ تاج محل کے عقب میں دریائے جمنا میں ہونے والی تبدیلیوں کے سبب تاج کے مینار جھک رہے ہیں لیکن محکمہ آثارقدیمہ اس کی تردید کرتا ہے اور اتر پردیش کی حکومت نے اس معاملے کی تحقیقات کے لیے ماہرین کی ایک کمیٹی تشکیل دی ہے جو اپنی رپورٹ ایک ہفتے میں پیش کرے گی۔ محکمہ آثار قدیمہ کا کہنا ہے کہ اتر پردیش حکومت سے اسے یہ اطلاع ملی ہے کہ تاج محل کے مینار جھک رہے ہیں اور میناروں میں سے ایک چھ انچ جھک چکا ہے۔ محکمہ کے ماہر آثارِقدیمہ انور عتیق صدیقی نے بی بی سی کو بتایا کہ آگرہ کے آثارقدیمہ کے سپرنٹنڈنٹ سے کہا گيا ہے کہ وہ اس اطلاع کی سچائی کا جائزہ لیں۔ ساتھ ہی دلی کے ماہرین بھی ان خبروں کا جائزہ لے رہے ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ تاج محل کی دیکھ بھال میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ مسٹر صدیقی نے کہا کہ ’ساڑھے تین سو برس قبل تاج محل جس طرح بنا تھاوہ آج بھی اسی حالت میں ہے۔ماہرین اسکی دیکھ بھال کر رہے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ میناروں کے جھکنے کی خبر بے بنیاد ہے لیکن اس بارے میں حقیقت کا علم تحقیق کے بعد ہی ہو سکے گا‘۔ معروف مورخ عرفان حبیب کا کہنا ہے کہ ماضی میں بھی میناروں کے جھکنے کا معاملہ سامنے آیا تھا جس کے بعد احتیاطاً مینار لوگوں کے لیے بند کر دیے گئے۔تاہم یہ بتایا گیا تھا کہ یہ جھکاؤ تاج محل کے لیے کسی بھی طرح خطرناک نہیں۔ موجودہ تنازعہ آگرہ کے سرکردہ مورخ پروفیسر رام ناتھ کے ایک تحقیقی مقالے کے بعد پیدا ہوا ہے۔ پروفیسر رام ناتھ کہتے ہیں کہ 1940 سے 1965 تک تاج محل کے میناروں میں مسلسل جھکاؤ آیا ہے لیکن اس کے باوجود محکمہ آثار قدیمہ نے ہر سال اس کے سروے نہیں کرائے۔ پرفیسر ناتھ کا کہنا ہے کہ دریائے جمنا تاج محل کے تحفظ کی ضامن ہے۔ اگر تاج محل کو بچانا ہے تو اس کے پیچھے بہنے والی جمنا کے رخ میں کسی تبدیلی کے بغیر سال کے تین سو پینسٹھ دن پانی کے بہاؤ کو برقرار رکھنا ہوگا۔ پروفیسر رام ناتھ کا کہنا ہے کہ جمنا کا کچھ حصہ پہلے ہی سوکھا ہے اور وہاں ایک کوریڈیر بنانے سے جمنا کے بہاؤ کے رخ میں تبدیلی آئی ہے اور اب پانی تاج کے پشتوں پر جانے کے بجائے سیدھا جانے لگا ہے۔ پروفیسر ناتھ کے مطابق اس سے تاج محل کا اصل ڈیزائن متاثر ہوا ہے اور بقول ان کے اس سے تاج کو زبردست نقصان پہنچےگا ۔ مغلیہ فن تعمیر کے سرکردہ ماہر اور محکمہ آثار قدیمہ کے سابق سربراہ پروفیسر ایم سی جوشی کا کہنا ہے کہ تاج محل کی تعمیر میں دریائے جمنا کو بہت اچھی طرح استعمال کیا گیا ہے اور اگر پانی بیس پچیس فٹ اوپر تک پہنچ جائے تو بھی تاج محل کو کوئي نقصان نہیں پہنچے گا۔ پروفیسر جوشی کہتے ہیں کہ اگر دریا میں کوئی تبدیلی کی جائےگی اور بغیر سمجھے بوجھے عام انجینئیروں سے کوئی کام کرایا جائیگا تو یقینا تاج کے میناروں میں جھکاؤ پیدا ہوگا۔ پروفیسر جوشی کا یہ بھی خیال ہے کہ تاج محل کو کسی نقصان سے بچانے کے لیے دریا کی پرانی حالت بحال کرنی ہوگی اور اس کی گہرائی اور چوڑائی برقرار رکھنی ہوگی ورنہ محبت کی یہ عظیم یادگار وقت سے پہلے ہی ختم ہوجائےگی۔ تاج کا یہ تنازعہ ایک ایسے وقت میں پیدا ہوا ہے جب اسکی تعمیر کا ساڑھے تین سو سالہ جشن منایا جارہا ہے۔ تاج محل کو مغل شنہشاہ شاہ جہاں نے اپنی ملکہ ممتاز محل کی یاد میں تعمیر کرایا تھا۔اتر پردیش کی سابق مایاوتی حکومت نے تاج محل کے عقب میں دریائےجمنا کے کنارےایک تجارتی کمپلیکس بنانے کا آغاز کیا تھا لیکن سپریم کورٹ کی بر وقت مداخلت کے نتیجے میں اس کمپلیکس کی تعمیر روک دی گئی۔ محکمہ آثار قدیمہ کا کہنا ہے تاج سے متعلق کسی بھی مسئلے کی ذمےداری اس کی ہے۔ بعض لوگوں کو اس معاملے میں کچھ سیاست بھی نظر آتی ہے۔ جمنا پر کوریڈور اور تجارتی کمپلیکس کی تعمیر کا منصوبہ اترپردیش کی سابق وزیر اعلیٰ مایا وتی کا تھا اور ریاست کے موجودہ وزیر اعلیٰ ملائم سنگھ یادو ان کے شدید مخالف ہیں۔ اس کے علاوہ مرکز کی کانگریسی حکومت کے تعلقات ملائم سنگھ یادو سے اچھے نہیں ہیں۔ علاوہ ازیں گزشتہ مہینے جب تاج محل کا جشن شروع ہوا تھا اس وقت بھی آگرہ میں مرکزی اور ریاستی اہلکاروں کے درمیان خاصہ کھنچاؤ دیکھنے میں آیا تھا- |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||