تاج محل جھک رہا ہے: ماہرین | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تاریخ دانوں کی ایک رپورٹ کے بعد کہ آگرہ کا تاج محل جھک رہا ہے، حکام نے اس معاملے کی تفتیش شروع کردی ہے۔ تاج محل کو بنے ہوئے ساڑھے تین سو سال ہوگئے ہیں۔ شمالی ریاست اترپردیش کی حکومت نے ماہرین کی ایک کمیٹی سے کہا ہے کہ تحقیقات کے بعد اپنی رپورٹ ایک ہفتے کے اندر پیش کرے۔ تاریخ دان فکرمند ہیں کہ جمنا ندی میں پانی کی کمی کی وجہ سے تاج محل کی بنیاد متاثر ہوئی ہے اور فوری کارروائی کی ضرورت ہے۔ تاج محل آگرہ میں جمنا ندی کے ساحل پر واقع ہے۔ راجستھان یونیورسٹی کے شعبۂ تاریخ کے سابق سربراہ رام ناتھ نے انگریزی اخبار ہندوستان ٹائمس کو بتایا کہ تاج محل کے مناروں کے جھکنے کی نشاندہی پہلی بار انیس سو بیالیس میں ہوئی تھی اور مختلف رپورٹوں میں اس خطرے کا ذکر ہے۔ رام ناتھ کا کہنا ہے کہ مناروں کے جھکنے کا یہ عمل جاری رہا ہے جو جمنا ندی میں خشکی کی وجہ سے ہے۔ ایک دوسرے تاریخ دان اے پی ماتھر کا کہنا ہے کہ تاج محل کو بچانے کے لئے جمنا ندی میں مزید پانی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا: ’جمنا پانی سے بھری ہوتی تھی جس کی وجہ سے تاج محل کو توازن ملتا تھا۔‘ اترپردیش کے وزیراعلیٰ ملائم سنگھ یادو نے ماہرین کو حکم دیا ہے کہ تاج محل کے جھکنے کے بارے میں اپنی رائے پیش کریں۔ اس کمیٹی میں شعبۂ آب، تعمیر اور ثقافت کے ماہرین ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||