بہار میں صدر راج کی سفارش | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بہار کے گورنر بوٹا سنگھ نے ریاست کی حالیہ اسمبلی کو تحلیل کردیا ہے اور وہاں صدر راج کے نفاذ کی سفارش کی ہے۔ لیکن وفاقی حکومت نےاس سلسلے میں ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ حکومت اس پر ابھی غور کر رہی ہے۔ ریاست بہار ایک بار پھر سیاسی اتار چڑھاؤ کے دور سے گزر رہی ہے۔ اس بار کے انتخابات میں حکمراں لالو پرساد یادو کی جماعت راشٹریہ جنتادل کو واضح اکثریت نہیں ملی ہے اور کافی کوششوں کے باوجود نئی حکومت کا بننا مشکل لگ رہا ہے۔ ایسی صورت میں ریاستی گورنر کے پاس صدر راج کے نفاذ کی سفارش کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا۔ پٹنہ سے جاری ایک سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ گورنر نے بارہویں اسمبلی کو تحلیل کردیا اور ریاست میں صدر راج کے نفاذ کی سفارش کی ہے۔ وفاقی حکومت اس معاملے پر صلاح و مشورہ میں مصروف ہے۔ وزیر داخلہ شو راج پاٹل نے وزیر اعظم منموہن سنگھ اور سونیا گاندھی سے ملاقات کی ہے لیکن اطلاعات کے مطابق مرکزی حکومت اس معاملے میں بڑی احتیاط سے قدم اٹھا رہی ہے۔ اس نے ابھی صدر راج کے نفاذ کیلیے اپنی سفارشات صدر کو نہیں بھیجی ہیں۔ ایک طرف لالو پرساد یادو کی جماعت آر جے ڈی اور کانگریس کا اتحاد ہے تو دوسری طرف این ڈی کا محاذ۔ ان دونوں میں سے جس کا ساتھ رام ولاس پاسوان کی جماعت دے گی اسکی حکومت بن سکتی ہے لیکن انہوں نے کسی بھی کی حمایت سے انکار کیا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ ایسی صورت میں صدر راج کا نفاذ ہی ایک واحد راستہ ہے۔آئینی طور پر صدر راج کا نفاذ چھ ماہ کے لیے ہوتا ہے۔ اور اگر ایسا ہوا تو اس مدت میں نئی سیاسی صف بندیوں کا امکان ہے۔ اس کے ساتھ ہی ریاست میں گزشتہ پندرہ برسوں سے جاری لالو پرساد یادو کے اقتدار کا بھی خاتمہ ہو جائے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||