بہار: گورنر راج سے امن و امان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پولیس کا کہنا ہے کہ بھارتی ریاست بہار کے دارالحکومت پٹنہ میں گزشتہ ایک ماہ سے زیادہ عرصے میں اغواء کی ایک رپورٹ بھی درج نہیں کرائی گئی۔ پولیس کے مطابق ریاست کے دیگر علاقوں میں اغواء کی سات رپورٹیں درج کی گئی ہیں۔ بھارت کی شمالی ریاست بہار میں اغواء کی وارداتوں میں اس قدر کمی امن و امان کی صورت حال میں بہتری کی ترجمانی کرتی ہے، خصوصاً ایک ایسی ریاست میں کہ جہاں پولیس کے ریکارڈ کے مطابق انیس سو بانوے سے لے کر کچھ عرصہ پہلے تک ہر چھ گھنٹے میں ایک شخص کو اغواء کر لیا جاتا تھا۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق گزشتہ تیرہ برس کے دوران تاوان کی غرض سے تیس ہزار افراد کو اغواء کیا گیا۔ ریاست کے اعلیٰ افسران کا کہنا ہے کہ امن و امان کی صورت حال میں اس قدر بہرتی کی وجہ یہ ہے کہ اس وقت ریاست میں سیاسی حکومت نہیں ہے۔ بہار میں انتخابات کے بعد کسی پارٹی کو اکثریت حاصل نہ ہونے کی وجہ سے سات اپریل کو گورنر راج ناذ کر دیا گیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||