بھارت: ریاست بِہار کے نئے ہیرو | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سنہ انیس سو نوے سے لالو پرساد بلا شک و شبہ بہار کی مقبول ترین شخصیت رہے لیکن اب جبکہ سال دو ہزار پانچ کے گزرنے میں ڈیڑھ ماہ سے بھی کم باقی ہیں دو دوسری شخصیات لالو سے زیادہ مشہور ہو رہی ہیں۔ ان میں سے ایک ہیں مرکزی الیکشن کمیشن کے قانونی مشیر مسٹر کے جے راؤ اور دوسرے ہیں سابق وزیرِ ریل اور ایک ہفتے کے لیے وزیرِاعلی رہنے والے نتیش کمار۔ کے جے راؤ کو ریاست میں پہلی بار مکمل طور پر بلا تشدد اور بنا دھاندلی کے الیکشن منعقد کرانے کے لیے پذیرائی مل رہی ہے۔ کے جے راؤ تو اپنا کام مکمل کر چکے ہیں۔ نتیش کمار کی شہرت باقی رہتی ہے یا نہیں، اسکا تعین بائیس نومبر کو ہوگا جب بہار کی ریاستی اسمبلی کے انتخابات کے نتائج سامنے آئیں گے۔ نتیش کمار کو میڈیا کا ہر طبقہ بہار کا اگلا وزیرِاعلی مان رہا ہے۔ ایگزٹ پول کے جتنے اندازے سامنے آئے ہیں ان کے مطابق اپوزیشن این ڈی اے اتحاد کو واضح اکثریت مل سکتی ہے۔ بہار کی ریاستی اسمبلی کی دو سو تینتالیس نشستوں پر مشتمل ہے اور حکومت سازی کے لیے کسی بھی جماعت کو کم از کم ایک سو بائیس سیٹوں کی ضرورت ہے۔
بعض ٹی وی چینلوں کے مطابق این ڈی اے اتحاد کو ایک سو آٹھ سے ایک سو سترہ نششتیں تک مل سکتی ہیں۔ اسی اندازے کے تحت آر جےڈی کی قیادت والا اتحاد ستاسی سے ننانوے نشستیں جیت سکتا ہے۔ معروف بھارتی سیفولوجسٹ ڈاکٹر یوگندر یادہ کا بھی اندازہ ہے کہ لالو پرساد کی بہار میں حکومت کے دن لوٹنے والے نہیں۔ اگر یہ تمام اندازے غلط نہیں ہوئے تو اتنی بات بھی طے مانی جا رہی ہے کہ نتیش کمار ریاست کے اگلے وزیرِاعلٰی ہوں گے۔ نتیش کمار ’جنتا دل یو‘ کے کافی سینئر لیڈر ہیں۔ ان کا تعلق کرمی ذات کی اکثریت والے ضلع نالندہ سے ہے۔ وہ ایک سند یافتہ انجینئر ہیں۔ مرکز میں بی جے پی کی سابقہ حکومت میں وہ ریلوے اور زراعت کی وزارتیں سنبھال چکے ہیں۔ بی جے پی کے ساتھ اتحاد میں ہونے کے باوجود انہیں سیکولر خیالات کا حامل مانا جاتا ہے۔ ان کا سیاسی کیریئر ایک صاف ستھرے سیاست داں کے طور پر عیاں ہے اور بہار میں ترقیاتی کاموں کی وجہ سے انہیں ’وکاس پرش’ کا خطاب بھی ملا ہوا ہے۔ نتیش کمار کی سیاسی قسمت میں کیا لکھا ہے یہ تو منگل کو پتہ چلے گا لیکن لالو پرساد متعدد بار کہ چکے ہیں کہ نتیش کی قسمت میں یہ عہدہ نیں ہے۔ نتیش کمار اگر وزیرِاعلٰی بنتے ہیں تو وہ کے جے راؤ کا شکریہ ضرور ادا کرنا چاہیں گے کیوں کہ ان کی پارٹی کئی بار کہہ چکی ہے کہ الیکشن کمیشن پہلی بار بہار میں اس قدر صاف شفاف الیکشن کرانے میں کامیاب ہوا ہے اور اسکا سہرا کے جے راؤ کے سر بندھے گا۔ کے جے راؤ نے اس بات کو متعین کیا کہ انتظامیہ کے ان تمام اہلکاروں کو الیکشن کی کارروائی سے دور رکھا جائے جو اس کی نظر میں مشتبہ ہیں۔ کے جے راؤ از خود ممکنہ دھاندلیوں کی روک تھام میں مشغول ملے۔ ہیلی کاپٹر سے ان کے دورے خاصے چرچا میں رہے۔ مرکزی نیم فوجی دستوں کی تعیناتی میں بھی ان کا اہم رول رہا۔ ووٹر کارڈ کے بغیر کسی کو ووٹ نہ دینے دیا جائے، اس مہم میں بھی انکی کاوشوں کا چرچا ہوتا رہا۔ کے جے راؤ کی کوششوں کو این ڈی اے کی جانب سے کافی حمایت ملی لیکن آر جے ڈی اور کانگریس کو ان سے بہت سی شکائتیں بھی رہیں۔ کے جے راؤ کے حوالے سے ان دونوں پارٹیوں نے مرکزی الیکشن کمیشن پر امتیازی رویے کا الزام لگایا۔ کمیشن پر مسلمان اور نچلی ذات کے افسروں کو جان بوجھ کر الیکشن ڈیوٹی سے الگ رکھنے کا الزام تو اکثر لگتا رہا۔ ان تمام الزامات کے جواب میں مسٹر راؤ نے صرف اتنا کہا کہ وہ اپنافرض پورا کر رہے ہیں۔ ان کی حمایت میں خود چیف الکشن کمشنر نے کہا کہ ان کے سارے اقدامات صحیح تھے۔ الزامات اپنی جگہ پر، لیکن مسٹر راؤ کی بغیر خون خرابے کے الیکشن کرانے کے لیے ہر طبقے کی طرف سے پذیرائی ہو رہی ہے۔ | اسی بارے میں وزیرِداخلہ کے استعفے کا مطالبہ 15 November, 2005 | انڈیا بہار میں انتخابات کا تیسرا مرحلہ13 November, 2005 | انڈیا بہار میں ریاستی اسمبلی کے انتخاب18 October, 2005 | انڈیا ’ِبہار اسمبلی کی تحلیل غلط تھی‘07 October, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||