بہار: لالو کا زوال کس کا کمال؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گزشتہ پندرہ سالوں میں لالو پرساد کی دو باتیں بہت مشہور ہوئی تھیں۔ لالو پرساد کہتے تھے کہ عوام نے ان کے ساتھ بیس سال تک حکومت کرنے کا کانٹریکٹ کر رکھا ہے اور یہ کہ ریاست میں وزیر اعلی کی کرسی کے لیے کوئی اسامی نہیں۔ وہاں رابڑی دیوی کا نام لکھا ہے۔ مگر بائیس نومبر کو حتمی طور پر یہ فیصلہ ہو گیا کہ ان کا معاہدہ ٹوٹ چکا ہے۔ رابڑی دیوی کا وزیر اعلی کی کرسی سے نام عوام کی عدالت نے کاٹ دیا ہے۔ نتیش کمار کو لمبی جدو جہد کے بعد بہار کا تخت و تاج مل گیا اور ساری بحث اس بات پر ہو رہی ہے کہ لالو کا معاہدہ ٹوٹا کیوں کر؟ اب جتنے منہ، اتنی باتیں۔ خود لالو پرساد کا کہنا ہے کہ لوگ جھانسے میں آگۓ۔ انکی رائےہے کہ ان کی حکومت کے بارے میں غلط تاثر دیےگۓ۔ سیاسی مبصرین لالو کی ہار کے لیے ریاست کی زبوں حالی اور لاقانونیت کو اہم وجہ بتا رہے ہیں لیکن بہار میں ذات پات پر مبنی معاشرتی تانا بانا در اصل وہ میدان تھا جہاں لالو پہلے بازی مار جاتے تھے۔ اس بار انہیں اسی فن میں شکشت ملی جسکے لیے وہ جانے جاتے تھے۔ ظاہر ہے کہ لالو کی میدان میں گرفت یکا یک کمزور نہیں ہوئی۔ اسی سال فروری میں اسمبلی انتخابات میں ان کی نشستیں کم ہوکر پچھہتر ہو گئی تھیں۔ سن دو ہزار میں لالو کی پارٹی کو ایک سو چوبیس سیٹیں ملی تھیں اور اسی سال ہونے والے دوسرے الیکشن میں ان کی سیٹیں گھٹ کر چون رہ گئیں۔ دوسری جانب نتیش کے اتحاد کو اس بار اکثریت کے لیے ضروری ایک سو بائیس سے اکیس نششتیں زائد ملیں۔ اس میں اٹھاسی جنتا دل یونائیٹیڈ کو اٹھاسی اور اتحادی بی جے پی کو پچپن سیٹیں ملیں۔ دو ہزار چار میں لالو نے رام ولاس پاسوان کے ساتھ معاہدہ کر کے لوک سبھا میں اپنی پوزیشن مضبوط تو کر لی لیکن دونوں کے درمیان مبینہ طور پر ریلوے کی وزارت پر نااتفاقی پیدا ہوئی۔ دونوں اسمبلی انتخابات میں ایک دوسرے کی جڑ کھودنے لگے اور اس کا سیدھا فائدہ این ڈی اے کو گیا۔
اوریہیں سے لالو کا وہ منتر بے اثر ہو گیا جسے انہوں نے ایم وائی اشتراک کا نام دیا تھا۔ ایم یعنی مسلم اور وائی سے انکی مراد یادو کی تھی۔اس الیکشن نے یہ ثابت کر دیا کہ لالو کی جیت صرف اس جنتر سے ممکن نہیں رہ گئی تھی۔ رام ولاس نے جب نتیش کمار کو فروری میں حکومت سازی کے لیے حمایت دینے سے انکار کر دیا تو ان کی پارٹی کے اونچی ذات کے تقریباً تمام منتخب ارکان اسمبلی نے بغاوت کر نتیش کی پارٹی جنتا دل یونائیٹیڈ میں شمولیت اختیار کر لی۔ اونچی ذات کے ووٹرجو لالو کی پالیسیوں سے تنگ آ چکے تھے انہوں نے اس بات پر الیکشن میں متحد ہوکر این ڈی اے کی حمایت کی۔ سول انجینئیر سے سوشل انجینئیرنگ کے ماہر بنے نتیش کمار جمعرات کوجب ریاست کے وزیر اعلی کا حلف لیں گے تو انکے ذہن میں یہ بات ضرور آئے گی کہ انکی جیت پکی کرنے میں رام ولاس پاسوان اور لالو کی چپقلش کاخاصا رول رہا ہے۔ حالانکہ نتیش کمار نے لالو کی شکست کو خراب حکومت کا نتیجہ بتایا ہے لیکن اس حقیقت سے وہ انکار نہیں کر سکتے کہ نالندہ ضلع میں این ڈی اے کو جو آٹھ نششتیں ملیں ان میں سے سات کرمی ذات کی ہیں جب کہ آٹھویں سیٹ پر دوسری ذات کو اس لیے فتح حاصل ہوئی کہ وہ نچلی ذات کے لیے مختص تھی اور یہ بات صرف مثال کے لیے بتائی گئی ہے۔ لالو کی شکست اس طرح این ڈی اے کی طرف اونچی ذاتوں کا میلان اور نچلی ذاتوں کا رام ولاس پاسوان کی حمایت کے دوہرے جھٹکے کا نتیجہ معلوم ہوتی ہے۔ خود لالو پرساد رام ولاس پاسوان کا نام نہیں لے رہے لیکن رام ولاس کے انداز و بیان سے اس بات کی خوشی نہیں چھپتی کہ لالو راج کا خاتمہ ہو گیا۔ پاسوان کہتے ہیں کہ ان کا مقصد آر جے ڈی کو حکومت سے باہر کرنا تھا اور اس میں کامیاب ہو گۓ۔
بہر حال، ذات پات کے محاذ پر لالو کی شکست اس بات کے اثر کو کم نہیں کرتی کہ ریاست کی بد حالی سے عام آدمی سخت نالاں تھا اور جس نے بھی اس بات کا خیال نہیں کیا کہ وہ کس ذات کو ووٹ دے رہا ہے اسنے نتیش کمار کو اس امید کے ساتھ ووٹ دیا کہ ریاست میں بجلی، پانی اور سڑکوں کی حالت ٹھیک ہوگی۔ لاقانونیت کا خاتمہ ہوگا۔ مزدوروں کا ریاست سے باہر جانا بند ہوگا لیکن نتیش کمار اس میں سے کیا کچھ کر پائیں گے یہ دیکھنے کے لیے کچھ انتظار کرنا ہوگا۔ |
اسی بارے میں پندرہ سال بعد لالو کا راج ختم 22 November, 2005 | انڈیا چارہ کیس: لالو پرفرد جرم عائد 26 September, 2005 | انڈیا لالو میزائل: گائڈیڈ یا ان گائڈیڈ07 September, 2005 | انڈیا لالوجی 144 روپے میں خریدیں09 June, 2005 | انڈیا لالو کے خلاف فرد جرم داخل25 April, 2005 | انڈیا پاسوان لالو کے لیے ’لائف سیونگ‘28 February, 2005 | انڈیا بہار وزیر اعلی: لالو یا کوئی اور؟19 February, 2005 | انڈیا لالوپرساد کی پارٹی کو نوٹس 12 February, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||