لالو ’ کِنگ میکر‘ سے’ کوئین میکر‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اپنی حاضر جوابی کے لئے شہرت رکھنے والے بہار کے سابق وزیر اعلیٰ لالو پرساد ’ کنگ میکر‘ سے اب ’ کوئین میکر‘ بن گئے ہیں۔ پارلیمانی انتخابات میں کانگریس اتحاد کی غیر متوقع کامیابی پر جب لالو پرساد سے پوچھا گیا کہ وہ کنگ بنیں گے یا کنگ میکر تو ان کا جواب تھا کہ وہ اس بار کوئین میکر بنیں گے اور سونیا گاندھی کو وزیراعظم بنانے میں بھرپور کردار ادا کریں گے۔ سخت ترین گھڑی میں سونیا گاندھی کی حمایت کرنے والے لالو پرساد نے سونیا کی سب سے بڑی مخالف بی جے پی کا بہار سے پتہ صاف کرنے والے لالو نے حقیقتاً وہی کام کیا ہے جس کا وہ دعویٰ کر رہے تھے۔ لالو پرساد نے بہار میں گانگریس کو چالیس نشستوں سے محض چار سیٹیں دی تھیں مگر ان کا اصل کارنامہ یہ رہا کہ ریاست سے تعلق رکھنے والے بی جے پی کے تمام وزراء الیکشن ہار گئے۔ ہارنے والوں میں بی جے پی کے واحد مسلم وزیر شاہ نواز حسین بھی شامل ہیں۔ لالو پرساد نے بادشاہ گر کا اپنا رول صرف زبانی جمع خرچ تک محدود نہ رکھا بلکہ اس کے لئے انہوں نے بہترین حکمت عملی وضع کی جو خاصی مؤثر ثابت ہوئی۔ نچلی ذاتوں کے رہنما رام ولاس سے ہاتھ ملا لیا۔ لالو کی دلیل یہ تھی کہ گزشتہ الیکشن میں متعدد سیٹوں پر بی جے پی اور اس کے اتحادی پانچ سے پچیس ہزار ووٹوں کے فرق سے جیتے تھے۔ اتنے ووٹ رام ولاس کی لوک جنگ شکتی پارٹی سے مل کر حاصل کئے جا سکتے تھے۔ رام ولاس پاسون نے گجرات کے مسلم کش فسادات کے بعد این ڈی اے حکومت سے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔ لالو نے انتخابی اتحاد کے مطابق رام ولاس کی پارٹی کو آٹھ نشستیں دی تھیں تو بعض حلقوں نے تعجب کا اظہار کیا تھا۔ مگر لوک جن شکتی پارٹی نے چار جگہوں سے کامیابی حاصل کر لی۔ خود لالو کی جماعت آر جے ڈی نے اب تک انیس سیٹیں حاصل کی ہیں۔ بہار میں ابھی تین حلقوں کے نتائج آنے باقی ہیں اور ان تینوں جگہوں پر اس کی پوزیشن اچھی مانی جا رہی ہے۔ اس معاہدے سے لالو پرساد کو ذاتی طور پر بھی فائدہ پہنچا۔ انہوں نے گزشتہ الیکشن میں جنتا دل یونائیٹڈ کے شرد یادو سے مدھے پورا میں شکست کا بدلہ لے لیا۔ اس طرح رام ولاس پاسون سے معاہدے کی وجہ سے وزیر ریل اور جے ڈی پی کے قد آور لیڈر نتیش کمار کو باڑ میں شکست کا منہ دیکھنا پڑا۔ لالو پرساد آج سونیا گاندھی کو ’رانی‘ بنانے کی بات کر رہے ہیں تو اس کے لئے انہیں پہلے سونیا اور کانگریس کی بھرپور حمایت مل چکی ہے۔ واضح رہے کہ این ڈی اے حکومت نے بہار میں صدر راج نافذ کرنے کی زبردست کوشش کی مگر ایوان بالا راجیہ سبھا میں اپنی اکثریت کے سہارے کانگریس نے اسے ناکام بنا دیا۔ خود لالو پرساد کی آر جے ڈی کو ریاست میں حکومت سازی کے لئے حمایت کے لئے ضرورت پڑی تو کانگریس اس کے کام آئی۔ یہ بات اور ہے کہ اس کے عوض لالو کو کانگریس کے سبھی ایم ایل اے کو وزیر بنانا پڑا۔ لالو پرساد نے سونیا گاندھی پر ملائم سنگھ یادو کے حملوں کو کند کرنے میں بھی بھرپور کردار ادا کیا۔ لالو نے ملائم پر بی جے پی سے ملے بھگت کا الزام لگایا اور ان کی سماج وادی پارٹی کو ’ووٹ کٹوا‘ قرار دیا یعنی ایسی پارٹی جس کے امیدوار خود تو انتخابات نہیں جیتتے مگر اتنے ووٹ کاٹ لیتے ہیں کہ اس کا نقصان سیکولر جماعتوں کو ہوتا ہے۔ بہار میں بعض حلقوں میں سیکولر جماعت کے امیدوار اتنے ہی ووٹ سے ہارے ہیں جتنے ووٹ ان ’ووٹ کٹوؤں‘نے حاصل کئے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||