اوما بھارتی کی واپسی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنی باغی لیڈر اوما بھارتی کو پارٹی میں دوبارہ شامل کر لیا ہے ۔ انہیں گزشتہ ماہ ڈسپلن شکنی کے سبب پارٹی سے بر طرف کر دیا گيا تھا ۔ ابھی یہ واضع نہیں ہے کہ محترمہ بھارتی کو جنرل سیکریٹري کا عہدہ دوبارہ دیا جائےگا یا نہیں۔ پارلیمنٹ کے موسم سرما کے اجلاس کے بعد بی جے پی کی پہلی نیوز کانفرنس میں پارٹی کےسابق صدر وینکیا نائیڈو نے کہا کہ پارٹی کے صدر لعل کرشن اڈوانی نے اوما بھارتی کو برطرف کرنے کا فیصلہ واپس لے لیا ہے اور وہ ایک بار پھر بی جے پی کی رکن بن گئی ہیں۔ اس سوال کے جواب میں کہ کیا انہیں پارٹی میں دوبارہ جنرل سیکریٹری کا عہدہ دیا جاۓ گا، مسٹر نایڈو نے نفی میں جواب دیا لیکن کہا کہ ان تمام امور کے متعلق ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیاگیا ہے اور اس سلسلے میں پارٹی میں صلاح و مشورے کے بعد ہی کچھ کہا جاسکتا ہے۔ نیوز کانفرنس کےدوران وینکیا نائیڈو نے منموہن سنگھ حکومت کی پالیسیوں پر بھی سخت نکتہ چینی کی اور کہاکہ حکومت عوام سے کیے گئے وعدہ سے منحرف ہوگئی ہے ۔ مدھیہ پردیش کی سابق وزیر اعلی اوما بھارتی کو گزشتہ ماہ پارٹی سے اس وقت بر طرف کر دیا گیا تھا جب پارٹی کے ایک اجلاس سے وہ یہ کہ کر باہر آگئی تھیں کہ پارٹی صدر ان کے خلاف جو کرنا چاہیں کر لیں ۔ محترمہ بھارتی نے پرمود مہاجن ، ارن جیٹلی اور مختار عباس نقوی جیسے سینئر رہنماؤں پر بھی سخت نکتہ چینی کی تھی۔ اوما بھارتی کا تعلق پچھڑی ذات سے ہے اور کٹر ہندو نظریات کےسبب ایک طبقے میں وہ خاصی مقبول ہیں۔ جلد ہی ریاست بہار ، ہریانہ اور جھارکھنڈ میں اسمبلی کے انتخابات ہونے والے ہیں ۔ ماہرین کے مطابق پارٹی نے انتخابی مہم کے لیے اوما بھارتی جیسی شعلہ بیان لیڈر کی ضرورت محسوس کی ہے اور اسی لیے انہیں دوبارہ بلایا گیا ہے۔ آج کی پریس کانفرنس میں بی جے پی کےتیور سے لگتا ہے کہ اس نے تینوں ریاستوں میں انتخابات کی تیاریوں کا آغاز کردیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||