| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
واجپئی کا انتخابی جوا
ہندوستان میں عام انتخابات کروانے کی حد اکتوبر ہے لیکن توقع ہے کہ اب یہ اپریل یا مئی میں ہو جائیں گے۔ اس سلسلے میں فیصلے کا اختیار بھارتیہ جنتا پارٹی نے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی پر چھوڑ دیا ہے۔ واجپئی اتوار کو حیدرآباد میں شروع ہونے والی بی جے پی کی دو روزہ کانفرنس کے دوران اپنی جماعت کی انتخابی تیاری کا جائزہ لیں گے اور دیکھیں گے کہ انتخابات کے بارے میں لوگوں کی کیا رائے ہے۔ بی جے پی اور ان کے اتحادی چاہ رہے ہیں کہ حالیہ دنوں میں حاصل ہونے والی معاشی اور سیاسی کامیابیوں کا فائدہ اٹھایا جا سکے۔ وزیر اعظم واجپئی نے حال ہی میں پاکستان کے ساتھ قیام امن کے لئے کامیاب مذاکرات کئے ہیں۔ یہ وزیر اعظم کی ذاتی کامیابی ہے جو انیس سو ننانوے سے امن کے قیام کی کوششیں کر رہے تھے۔ پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے بھی امن کی طرف پیش رفت میں وزیر اعظم واجپئی کے کردار کا اعتراف کیا ہے۔ بی جے پی اور اس کی اتحادی جماعتیں بزرگ سیاستدان اٹل بہاری واجپئی کی ذاتی مقبولیت کا ایک ایسے وقت میں انتخابی مہم میں فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں جب حزب اختلاف انتشار کا شکار ہے۔ بی جے پی گزشتہ ماہ ملک کی تین ریاستوں میں اپنی حالیہ کامیابیوں کا سلسلہ جاری رکھنا چاہتی ہے۔ بی جے پی نے ان تینوں ریاستوں میں وہاں کی حکمران جماعت کانگرس کو شکست دی ہے۔ ایک طرف بی جے پی نے کامیابی سے مختلف نظریات والی بیس جماعتوں کو ایک اتحاد میں شامل کر لیا ہے اور جبکہ دوسری طرف کانگرس ابھی اتحاد قائم کرنے کی کوششیں کر رہی ہے۔ لیکن انتخابات جلد کرانے کی سب سے بڑی وجہ شاید ملک کی پھلتی پھولتی معیشت ہے۔ ملک میں زر مبادلہ کے ذخائر ایک سو ارب ڈالر سے بڑھ گئے ہیں، حصص بازار میں تیزی کا رجحان ہے اور معاشی شرح نمو آٹھ فیصد کے قریب ہے۔ سن دو ہزار تین میں مون سون کی زبردست بارشوں کے بعد کاروں، ادویات اور کمپیوٹر کی صنعتوں کی پیداوار اور آمدن میں زبردست اضافہ دیکھنے میں آیا۔ ماہرین کے مطابق بی جے پی اس سال کم بارشوں کا خطرہ مول نہیں لے گی۔ ہندوستانی کاروباری طبقے بھی جلد انتخابات کے حق میں ہیں کیونکہ اس کے نتیجے میں فروری میں ہونے والا بجٹ اجلاس مؤخر ہو جائے گا اور حکومت سخت کاروباری فیصلے کرنے سے گریز کرے گی۔ وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی اناسی سال کے ہو چکے ہیں۔ انہوں نے نصف صدی سیاست میں گزاری ہے اور مبصرین کے مطابق وہ آخری انتخابی کامیابی حاصل کرنا چاہتے ہیں جو انہیں ملکی تاریخ کا سب سے کامیاب اور مضبوط رہنما بنا دےگی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||