سنہا ترجمان کے عہدے سے برطرف | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے سابق وزیر خارجہ اور بی جے پی کے سینیئر رہنما یشونت سنہا کو پارٹی کے ترجمان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔ بی جے پی کے ترجمان ارُن جیٹلی نے بتایا کہ بی جے پی میں بعض تبدیلیوں کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گيا ہے۔مسٹر جیٹلی نے کہا ’ کس کو کیا کام دینا ہے اس کا فیصلہ صرف پارٹی کے صدر لال کرشن اڈوانی کے اختیار ميں ہے‘۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اب پارٹی کے ترجمان کی ذمہ داری سینیئر رہنم سشما سوراج اور وہ خود سنبھالیں گے۔ یشونت سنہا بی جے پی کے سب سے پہلے رہنما تھے جنہوں نے بانی پاکستان محمد علی جناح کے بارے میں پارٹی کے صدر ایل کے اڈوانی کے بیانات پر سخت نکتہ چینی کی تھی۔ گزشتہ دنوں انہوں نے جھاڑ کنڈ میں اپنی ہی جماعت کی حکومت کو بدعنوان قرار دیا تھا۔ ان کے ان بیانات پر پارٹی ہی نہیں باہر کے حلقوں ميں بھی حیرت ظاہر کی جا رہی تھی۔ ان بیانات کے بعد سنہا کے خلاف کسی کارروائی کی توقع کی جا رہی تھی۔ قائد اعظم کے بارے میں مسٹر اڈوانی کے خلاف بیانات دے کر اگر ایک طرف انہوں نے آر ایس ایس سے قربت حاصل کی تھی تو دوسری جانب وہ اڈوانی اور ان کے حامیوں سے دور ہو رہے تھے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مسٹر اڈوانی مسٹر سنہا جیسے سینئر رہنما کو پارٹی سے فوری طور پر نکال کر آر ایس ایس کی ناراضگی نہیں مول لے سکتے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||