بی جے پی کے رہنما پر قاتلانہ حملہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتیہ جنتا پارٹی کےسرکردہ لیڈر اور سابق مرکزی وزیر روی شنکر پرساد ایک قاتلانہ حملے میں زخمی ہوگئے ہیں۔ ان پر یہ قاتلانہ حملہ ایک انتخابی ریلی میں کیا گیا۔ روی شنکر کے بازو پر گولی لگی ہے اور انہیں اسپتال میں داخل کیا گیا ہے جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ روی شنکر پرساد واجپئی حکومت میں اطلاعات و نشریات کے وزیر تھے۔ پٹنہ میں بی بی سے کے نامہ نگار منی کانت ٹھاکر کا کہنا ہے کہ مسٹر پرساد بعض دیگر بی جے پی رہنماؤں کے ساتھ ضلع روہتاس میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کر رہے تھے۔ جیسے ہی ان کی تقریر ختم ہوئی مجمع میں سے ایک شخص نے ان پر گولی چلا دی۔ حملہ آور کو موقع پر موجود افراد نے پکڑ لیا اور اس قدر مارا کہ اسے بھی شدید زخمی حالت میں ہسپتال میں داخل کرنا پڑا۔ بعض خبروں کے مطابق حملہ آور مارا گیا ہے لیکن پولیس نے اس بات کی تصدیق نہیں کی ہے۔ تقریباً سبھی سیاسی جماعتوں نے روی پرساد پر حملے کی مذمت کی ہے۔ بی جے پی نے کہا ہے کہ اس واقعہ سے پتہ چلتا ہے کہ بہار میں میں امن و امان کی صورت حال بدتر ہو چکی ہے۔ لالو پرساد یادو کی جماعت راشٹریہ جنتادل کا کہنا ہے کہ اس واقعے کی تفتیش ہونی چاہیے تاکہ سازش کا پتہ چل سکے۔ بہار میں اس ماہ کی اٹھارہ تاریخ کو اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے کے لیے ووٹ ڈالیں جائیں گے اور وہاں انتخابی سرگرمیاں زور شور سے شروع ہوچکی ہیں۔ ریاست بہار کے کئی اضلاع نکسلی تحریک سے متاثر ہیں اور ماؤ نواز شدت پسندوں نے ان انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہوا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||