سابق وزیر کی پراسرار ہلاکت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کی حکمراں جماعت کانگریس پارٹی کے ایک سینئر رکن اور سابق وزیر بلرام سنگھ یادو پیر کے روز اپنے گھر میں پراسرار انداز میں مردہ پائے گئے۔ ان کی موت اتر پردیش کے شمالی شہر ایٹاوا میں اپنے گھر میں ہوئی اور پولیس نے بتایا ہے کہ انہیں گولی لگی۔ بلرام سنگھ یادو کی موت پر تبصرہ کرتے ہوئے پولیس نے کہا ہے کہ ممکن ہے کہ انہوں نے خود کشی کی ہو۔ کانگریس پارٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ سی بی آئی ان کی موت کی تحقیقات کرے۔ یادو مرکز میں وزیر رہے اور اتر پردیش میں کانگریس پارٹی کے صدر بھی رہے۔ ایک اطلاع کے مطابق جس وقت ان کی موت ہوئی یادو کے صاحبزادے اور بہو بھی گھر پر تھے اور ایک نوکر بھی گھر پر موجود تھا۔ پہلے انہیں ایٹاوا کے ایک ہسپتال لے جایا گیا جہاں سے انہیں آگرہ کے ہسپتال میں منتقل کر دیا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہو سکے۔ بھارت کے مرکزی وزیرِ داخلہ شری پرکاش جیسوال نے کہا ہے کہ بلرام سنگھ یادو کی موت کی تحقیقات ہونی چاہیے۔ یادو نے ایک زمانے میں ملائم سنگھ یادو کی سماج وادھی پارٹی میں سیاسی کردار ادا کیا اور وہ کچھ عرصے کے لیے بی جے پی میں بھی رہے۔ تاہم بعد میں وہ کانگریس پارٹی میں واپس آ گئے۔ وہ انیس سو چوراسی میں لوک سبھا کے رکن منتخب ہوئے جبکہ انیس سو اٹھانوے میں وہ دوبارہ قومی اسمبلی کے رکن بنے۔ انیس سو نوے سے چھیانوے تک وہ راجیہ سبھا کے رکن رہے۔ انیس سو اکانوے سے پچانوے تک وہ بھارتی وزیرِ اعظم نرسمہا راؤ کی حکومت میں وزیر کے عہدے پر فائز رہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||