مسلم کوٹہ: آئینی بینچ دیکھے گا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ نے آندھرا پردیش ہائی کورٹ کےاس فیصلے کو معطل کرنے سے انکار کردیا ہے جس میں مسلمانوں کے لیے مختص پانچ فیصد کوٹہ کی سہولت ختم کر دی گئی تھی۔ سپریم کورٹ نے معاملہ ایک آئینی بینچ کے حوالے کر دیا اور جو اس کی سماعت کرے گا۔ ریاستی حکومت نے اکتوبر دو ہزار چار میں غریب مسلمانوں کے لیے سرکاری ملازمتوں اور تعلیمی اداروں میں پانچ فیصد نشستیں مخصوص کر دی تھیں۔اس کے لیے ریاستی اسمبلی نے ایک قانون کو بھی منظوری دیدی تھی۔ مذہب کے نام پر ملازمتوں اور تعلیمی اداروں میں ریزرویشن دینے کی یہ کوشش آندھرا پردیش کی کانگریس حکومت کی جانب سے کی گئی تھی۔ لیکن بی جے پی اور اسکی حامی کئی تنظیموں نے حکومت کے اس فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنچ کیا تھا جس کے تحت گزشتہ سات نومبر کو ریاست کی ہائی کورٹ نےاس پر پابندی عائد کر دی تھی۔ ہائی کورٹ کے اسی فیصلے پر حکم امتناعی کے لیے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی گئی تھی لیکن عدالت عظمی نے اسے خارج کردیاہے۔ تاہم عدالت نے ریزرویشن کے تحت اب تک ہوئی تقرریاں اور تعلیمی اداروں میں داخلوں کے بارے میں جوں کی تو حالت برقرار رکھنے کو کہا ہے یعنی جو لوگ اس سے فائدہ اٹھا چکے ہیں انہیں کوئی پریشانی نہیں ہوگی۔ | اسی بارے میں مذہبی بنیاد پر کوٹہ نہیں: عدالت21 September, 2004 | انڈیا بھارتی مسلمان: ماڈل نکاح نامہ 01 May, 2005 | انڈیا مسلم بورڈ کا دعوٰی بے بنیاد ہے: جے پال 01 August, 2005 | انڈیا ظاہرہ شیخ کا حقہ پانی بند25 December, 2004 | انڈیا مسلم لاء بورڈ نے ٹیم بنا لی28 August, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||